سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 155
۱۵۵ نے فرمایا ہے کہ مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِى وَ مَنْ علَى آمِيْرِي فَقَدْ عَصَانِي : اسی طرح فرمایا : الفضل ۲۲ دسمبر ۳۶ صلا) میں نے ہمیشہ اس کا خیال رکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ اگر ایک طرف ناظروں کا احترام اور اعزاز جماعت کے دلوں میں پیدا کیا جائے تو دوسری طرف جماعت کی عظمت کو بھی قائم رکھا جائے۔میں جانتا ہوں کہ اگر ایک حصہ کو چھوڑ دیا جائے تو با وجود نیک نیتی نیک ارادہ کے ایک حصہ دوسرے کو کھا جائے گا۔اگر کارکنوں کے اعزاز اور احترام کا خیال نہ رکھا جائے تو نظام کا چلنا مشکل ہو جائیگا اور اگر جماعت کے حقوق کی حفاظت نہ کی جائے اور اس کی عظمت کو تباہ ہونے دیا جائے تو ایک ایسا آئین بن جائے گا جس میں خود رائی اور خودستائی غالب ہو گی۔اس لئے میں ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھتا ہوں کہ جس کی غلطی ہو اُسے صفائی کے ساتھ کہہ دیا جائے۔الفضل ۲۲ اپریل ۱۹۳۵ء ص ۳۷)