سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 149
۱۴۹ الزام بھی کوئی نہیں۔تو حضور نے اس شکایت کے انسداد کے لئے جس میں مالک اور ملازم دونوں کے حقوق کی حفاظت ہے یہ قانون نافذ فرمایا :- "جو شخص لیے عرصہ کے لئے مشاہرہ ملازم ہو اس کو فورا بلا نوٹس الگ کر دینا درست نہیں۔اس لئے یہ اصولی فیصلہ کیا جاتا ہے۔کہ تا وقتیکہ کوئی معاہدہ اس کے خلاف نہ ہو تو اگر کوئی شخص متواتر چھ ماہ یا اس سے زائد عرصہ تک کسی کا ملازم ماہوار تنخواہ پر رہا ہو۔تو اس کو کم از کم پندرہ دن کا نوٹس یا پندرہ دن کی تنخواہ دی جاتی ضروری ہے۔اس طرح ایسا ملازم بھی اگر پندرہ دن کا نوش دیئے بغیر یا پندرہ دن کی تنخواہ کٹوائے بغیر چلا جائے تو اسے مجبور کیا جائے گا کہ یا وہ دوبارہ ملازمت اختیار کر کے پندرہ دن کا نوٹس دے کر الگ ہو۔یا پندرہ دن کی تنخواہ کے برابر رقم مالک کو ادا کرے۔اگر علیحدگی کے عرصہ میں مالک کوئی اور ملازم رکھ چکا ہو تو اس صورت میں رقم کی ادائیگی ضروری ہوگئی پندرہ دن کی ملازمت اختیار کرنے کا اختیار زائل ہو جائے گا یہ قاعدہ صرف احمدی ملازمین کے متعلق ہے۔دوسرے چونکہ بہار تابع فرمان نہیں۔اس لئے ہم ان سے اپنی جماعت کے حقوق نہیں دلوا سکتے۔پس ان کے حقوق کے متعلق بھی ہماری قضاء کوئی دعوئی سننے کی مجاز نہیں۔و د ریزولیوشن نمبر ۳۲۰ قواعد صد را نمین احمدیہ ایڈیشن ۹۳۷) ۱۹۴۷ء کی بات ہے کہ صدر انجین احمدیہ کے ایک قاعدہ کی عبارت حضر المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کے حضور پیش ہوئی جو یہ تھی :- " اگر کوئی شخص انجمن کے کسی صیغہ میں کارکن رہ کر برخاست یا مستعفی ہوا ہو۔تو دوبارہ اس کا تقریر برخاستگی کی صورت میں بغیر منظوری مجلس نہیں ہو سکتا۔اور استعفیٰ کی صورت میں ضروری ہو گا کہ جس افسر کے ماتحت وہ استعفیٰ کے وقت تھا بغیر اس کی