سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 143

۱۴۳ اور پیداوار کو بڑھانے کے لئے کون سے ذرائع استعمال کرنے چاہئیں اسی طرح جہاں جہاں بڑی جماعتیں ہوں وہاں زراعتی سوسائٹیاں بنائی جائیں تا کہ وہ باہمی مدد اور تعاون کے ساتھ کام کر سکیں۔اگر ایسا ہو جائے تو امید ہے ہمارے زمینداروں کی اخلاقی اور دینی حالت پر گہرا اثر پڑے گا اور جماعت کی آمد بھی بڑھے گی یا سے نظارت تجارت یا د رکھو ہر وہ تجارت یا صنعت یا ملازمت جو قوم کے اکثر افراد کے ہاتھوں میں آجاتی ہے اُسے کوئی دشمن تباہ نہیں کر سکتا۔کیونکہ وہ فرد کے ہاتھ سے نکل کر قوم کے ہاتھ میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔اگر ہمارے آدمی مختلف فن سیکھ کر کافی تعداد میں ایک ایک پیشہ میں کام کر رہے ہوں تو مخالف ہمیں نکال نہیں سکتے۔وہ اسی وقت نکال سکتے ہیں جب ہمارے افراد خال خال ہوں۔یہی حال تاجروں کا ہے۔اگر وہ مختلف مقامات پر چھائے ہوئے ہوں اور اپنی تجارت کو فروغ دے کہ ارد گرد پھیلتے جائیں تو ان کا بائیکاٹ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اگر وہ ان کا بائیکاٹ کریں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنے فوائد کو آپ قربان کر دیں۔دنیا میں کون ایسا احمق ہے جو اس شاخ کو کاٹنا شروع کر دے جس پر خود بیٹھا ہوا ہو۔پس جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایسے اصول یقینا اختیار کئے جا سکتے ہیں جن سے کام کو وسیع طور پر پھیلایا جا سکتا ہے۔صرف اسی لئے کہ ہمارے تاجر کمپنیاں بنا کر کام کرنے کے عادی نہیں ان کی تجارت وسیع نہیں ہوتی۔اجتماعی ضرورت کی وجہ سے ہی ایک لمبے عرصے سے یورپ و امریکہ تجارت پر چھائے ہوئے ہیں۔فرد کبھی لمبی تجارت کو یہی نہیں سکتا۔آخر ایک نہ ایک دن وہ ٹوٹ جاتی ہے۔اه تقریر جلسه سالانه ۹۵ ۱۹۵۵ و رپورٹ مجلس مشاوت ۱۹۵۶ء مثلا