سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 136

۱۳۶ تغییر کیا جا رہا ہے سیکرٹری آف سٹیٹ کو بھی اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔پس رپورٹ کا یہ حصہ اصول کے خلاف ہے۔میرے پاس ہر روز اپیسے کا غذات آتے ہیں جن پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میں کسی ناظر کے پاس نہیں بھیج سکتا۔آخر مجھے یہی لکھنا پڑتا ہے کہ ناظر اعلیٰ کے پاس جائیں۔۔۔۔ناظر اعلیٰ کا یہ بھی کام ہوتا ہے کہ اگر کوئی ناظر غلطی کرتا ہے، تو ناظرا علیٰ کو اس کے متعلق رپورٹ کرنے کے لئے مقرر کیا جاتا ہے۔یہ کام ہر حال کسی سینیٹر ممبر ہی کے سپرد کرنا پڑے گا یہ ہے نظارت تالیف و تصنیف تصانیف ہمیشہ کسی اصول کے ماتحت ہونی چاہئیں۔ہر سال ایک میٹنگ بلائی جائے جس میں اس امر پر غور ہو کہ زمانہ کا دماغ کدھر جارہا ہے۔اور لوگوں کے خیالات کی روکس طرف ہے۔پھر اس کے مطابق کام ہونا چاہئیے۔کسی زمانہ میں خالی وفات مسیح کے مسئلہ سے کام ہو جاتا تھا۔لیکن اب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اسلام پیٹ کے دھندوں کا کیا علاج کرتا ہے امن کے قیام کے لئے وہ کونسی تجاویز پیش کرتا ہے۔یا کونسی تدابیر ہیں جن سے پاکستان مضبوط ہو جائے اور اسلام دنیا پر غالب آجائے۔چونکہ اب مسلمانوں کو حکومت مل گئی ہے اس گئے نئے نئے سوالات ان کے دلوں میں پیدا ہوتے رہتے ہیں ان سوالات کے متعلق ہماری طرف سے کتا بیں شائع ہوتی کوئی پلاننگ نہیں ہوئی۔اب چاہئیں۔ان امور کے متعلق ہونے کا شوق ہے وہ اپنے طور پر رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں کسی معین اور واضح سکیم کے مانستخوت ان کا کام نہیں ہوتا یہ ہے کے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۳ ص۱۹ - ۵۲ رپورٹ مجلس مشاورت ۶۱۹۵۷ ص۳۲