سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 133

۱۳۳ مسلمان نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔۔عورتوں کی تعلیم کو عام کرنا بھی اس صیغہ کی ذمہ داری میں شامل ہے۔لے دونوں انجمنوں کا ادغام کچھ عرصہ تک نئی قائم کر دہ انتظامیہ (جو نظارت کہلاتی تھی ، اور مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ پہلو بہ پہلو اپنے اپنے دائرہ عمل میں مختلف فرائض سر انجام دیتی رہیں۔لیکن ایک لمبے تجربہ کے بعد جب اس میں بعض قباحتیں محسوس ہوئیں تو ۲۵ طلہ میں آپ نے ان دونوں تنظیموں کو ایک دوسرے میں مدغم کر دیا۔اب جملہ نظارتوں کے ذمہ دار افسر جو ناظر کہلاتے تھے صدر انجمن احمدیہ کا جو و بن گئے اور انتظام کی نئی شکل یہ اُبھری ، کہ خلیفہ وقت کے ماتحت صدر انجمن احمدیہ بحیثیت مجلس عاملہ تمام اہم اصولی فیصلوں کی ذمہ دار تھی۔اور تمام مسائل پر غور و فکر کے بعد اپنی سفارشات آخری منظوری کے لئے خلیفہ ایسیح کی خدمت میں پیش کرتی تھی۔صدر انجین احمدیہ کے ایسے ممبران جو مختلف انتظامی شعبوں کے سر براہ ہوتے تھے وہ ناظر کہلاتے تھے۔ناظر اصولی طور پر صدر امین احمدیہ کے ایسے فیصلوں کی روشنی میں کام کرتے تھے جن کو خلیفتہ ایسیج کی منظوری حاصل ہو۔لیکن انتظامی امور میں وہ براہِ راست خلیفہ اسیح ہی کے ماتحت تھے اور خلیفہ مسیح کے سامنے جواب دہ تھے اور ان کا انتخاب بھی کلیتہ خلیفہ المسیح کے منشاء کے مطابق ہوتا تھا۔صدر انجمن احمدیہ اور نظارتوں کے ادغام کے نتیجہ میں نئی انجمن کی صورت حسب ذیل تھی۔اس میں مندرجہ ذیل چھ ناظر اور دو بیرونی ممبران مقرر ہوئے :۔ناظر علی و بہشتی مقبرہ : حضرت چوہدری نصر اللہ خانصاحب ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ر والد محترم حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب) ناظر دعوت وتبلیغ : حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ عنہ ناظر بیت المال : حضرت مولوی عبد المغنی خانصاحب رضی اللہ عنہ ناظر امور عامه : حضرت مولوی ذوالفقار علی خانصاحب گو ہر رضی اللہ عنہ ر برادر مولانا محمد علی جو شہر بانی تحریک خلافت) اے رپورٹ مجلس مشاورت ۶۱۹۲۲ ص ۲۲