سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 113

ضرور ہونا چاہیے تا کہ خاموشی میں ذکر کرے۔۔۔۔۔۔تبلیغ کے کام میں مطالعہ بہت وسیع چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔سلسلہ کی کتابوں کا مطالعہ رہے۔حضرت صاحب کی کتابیں اور پھر دوسرے آدمیوں کی کتا ہیں۔اتنی اتنی دفعہ پڑھو کہ فورا حوالہ ذہن میں آجائے۔کھتا ہیں اپنی خرید و ! ایک مرض مولویوں میں ہے۔یاد رکھو مولوی کبھی کتاب نہیں خریدتے۔اس کو لغو یا اسراف سمجھتے ہیں۔شاذ و نادر زیادہ سے زیادہ مشکوۃ رکھ لی اور ایک کا فیہ رکھ لیا۔لیکن انسان کے لئے جہاں وہ اور بہت سے چندے دیتا ہے ، کتاب خرید یا نفس کے لئے چندہ ہے۔کچھ نہ کچھ ضرور کتاب کے لئے بھی نکالنا چاہیے۔خواہ سال میں آٹھ آنے کی ہی کتاب خریدی جائے۔یہ کوئی ضروری نہیں کہ لاکھوں کی ہی کتابیں خریدی جائیں۔بلکہ جس قدر خرید کر سکو ، خرید و۔یہ اس لئے کہ خرید نے والا پھر اس کتاب کا آزادی سے مطالعہ کر سکے گا اور اس طرح اس کے علم نہیں اضافہ ہو گا فراست بڑھے گی۔سوال د خوشامد کی عادت نہ ڈالو پھر نفس کے لئے لجاجت ، خوشامد ، سوال کی عادت نہیں ہونی چاہیے۔یہ بھی علماء میں بڑا بھاری نقص ہے کہ وعظ کیا اور بعد میں کچھ مانگ لیا۔اور اگر کوئی ایسا گیا ہوا نہ ہوا تو اس نے دوسرے پیرا یہ میں اپنی ضرورت جتا دی۔مثلاً ہمارا کنبہ زیادہ ہے، گزارہ نہیں ہوتا۔یا کسی دوسرے الفاظ میں لوگوں کو شنا دیا کہ کچھ روپے کی یا کوٹ وغیرہ کی ضرورت ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہئیے۔اللہ تعالے پر تو کل چاہئیے۔اسی سے مانگنا چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ تیرے پاس ایسا مال لایا جائیگا کہ مال لانے والوں کو الہام ہو گا کہ مسیح موعود کے پاس لے کر جاؤ۔پھر وہ