سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 109
1-4 دوم- تمام اہلِ دہلی خصوصاً علماء کو صلائے عام تھی کہ اس جلسہ میں نہ صرف شرکت فرمائیں بلکہ دل کھول کر جو جی میں آئے سوال کریں۔نہایت عمدہ انتظام کے ساتھ گھر گھر اس دعوت کو پہنچانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔سومر - سوالات کی عام اجازت تو تھی مگر صرف ایک شرط کے ساتھ کہ تقریریں زبان میں ہو معترض اعتراض نہیں اسی زبان میں کرے اور منقرر بھی اسی زبان میں جواب دے۔مقررین میں حضرت میر محمد اسحق صاحب رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب بھی شامل تھے جنہوں نے انگریزی زبان میں خطاب فرمایا۔اس نئی طرز کے جلسے نے دہلی کے علمی حلقوں میں ہی نہیں عوام الناس میں بھی ایک تقلیلی مچادی۔لیکن افسوس کہ علماء نے اس قدر شور مچایا اور لوگوں کو اس جلسہ سے باز رکھنے کی ایسی نامسعود کوشش کی کہ دہلی کا ایک بڑا طبقہ اس کی برکات سے محروم رہ گیا۔تا ہم حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا یہ مقصد پورا ہو گیا کہ ایک مرتبہ دہلی شہر کو ہلا دیا جائے اور گھر گھر احمدیت کے چرچے ہونے لگیں۔اس شرط نے کہ معترض اسی زبان میں اعتراض کرے جس میں تقریر کی گئی ہو برا پر لطف مناظر پیدا کئے۔بڑے بڑے جبہ پوش علماء کو جو اعتراضات کی جھولیاں بھر بھر کر لائے ہوئے تھے عربی تقاریر کے بعد نام لے لے کر اُبھارا گیا کہ اس نہایت عمدہ موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اہلِ قادیان پر اپنی علمی برتری ثابت فرمائیں، اور لمبی تقریر نہیں۔زبان عربی میں صرف چند جملوں ہی کا کوئی اعتراض پیشیں کر دیں مگر افسوس کہ وہ جن کی زبانیں اُردو کے وقت بند نہ ہوتی تھیں عربی اور انگریزی کے وقت کسی طرح کھلنے میں نہ آتی تھیں چنانچہ اس جلسہ کا اہل دہلی پر یہ اثر ہوا، کہ مخالفت کے باوجود جماعت احمدیہ کے علم کی گہری دھاک دلوں پر بیٹھ گئی اور صاب فراست ذہین اور فہیم خلیفہ کے فکر و تد تیر نے جماعت احمدیہ کی برتری اور سر بلندی کے نئے سامان پیدا کر دیئے۔اس جلسہ میں خود حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ایک مضمون بعنوان اسلام اور دیگر مذاہب کا انگریزی میں ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا گیا جس کا سامعین پر گہرا اثل