سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 83
آیا کرتا ہے کہ میں ہفتہ بھر کسی کو اپنے ساتھ رکھوں تا معلوم ہو کہ میں فارغ نہیں بیٹا اور نہ آرام طلب ہوں۔غرض اب خلیفہ کے کام کی نوعیت بدل گئی ہے اور ان حالات کی موجودگی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقلید مجھ پر ضروری نہیں۔حقیقت حال سے بے خبر اعتراض کرتے ہیں زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا ایک بار پھر ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : み " پھر کاموں کی نوعیت میں بھی فرق ہوتا ہے۔جنگ کا تعلق اس زمانہ میں جسمانی حالت سے تھا۔اس لئے اس کے واسطے جفا کشی محنت اور خشن پوشی کی ضرورت تھی اور چاہیے تھا کہ غذا بھی سادہ ہو بلکہ اکثر بھوکے رہنے کی عادت ہو۔مگرا تصنیف کا تعلق دماغ سے ہے۔اس کے لئے نرم لباس - نرم غذا چاہیئے اور اپنے آپ کو حتی الوسع تنہائی میں رکھنا کیونکہ تصنیف کا اثر اعصاب پر پڑتا ہے۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے حضرت عیسے پر اعتراض کیا کہ وہ روز کم رکھتا ہے اور کھاؤ پیو ہے۔نادان یہ نہیں سمجھتے کہ حضرت موسیٰ کا زمانہ نہ تھا۔وہ تو ایک علمی زمانہ تھا۔ان کو مخالفین کے مقابل پر تقریریں کرنی پڑتی تھیں اور یہود کی کتابوں کا مطالعہ - موقع موقع کی بات ہوتی ہے چونکہ آپ کو اس بات کی سخت فکر دامنگیر رہتی تھی کہ آپس کے جھگڑوں کی بناء پر احباب جماعت کی مثالی محبت میں رخنہ نہ پڑ جائے۔اس لئے آخر پر محور جماعت کو باہم محبت اور بیار سے رہنے کی نصیحت حسب ذیل پر اثر الفاظ میں فرمائی : دیکھو ایک وقت حضرت ابوبکر و حضرت عمر میں جھگڑا ہو گیا۔بعض آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باتیں کرتے کرتے ہاتھ کو بھی حرکت دے لیتے ہیں اس طرح نادانستہ طور پر حضرت ابو بکر کا تہبند پھٹ گیا بایں ہمہ حضرت ابو بکر نے باوجود بزرگ ہونے کے حضرت عمری سے معافی