سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 82
کو لکھنے یا لکھانے پڑتے ہوں پھر فی زمانہ خلیفہ وقت کے مشاغل پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے فرمایا :- خلیفہ وقت کے مشاغل اس کے علاوہ میرے ذہن میں جماعت کی ترقی کی سیکس میں ہیں۔از انجلہ ایک یہ کہ وہ کیا تدابیر ہیں جن پر چلنے سے جماعت میں آئندہ خلافت کے متعلق کوئی فتنہ نہ ہو۔(ب) عورتوں کی تعلیم کے متعلق نصاب (ج) سیاسی امور سے ہمارے تعلقات کس طرح ہوں۔ان سب پر کچھ لکھنے والا ہوں اور یہ سب کام میرے ہی ذمہ ہیں جو تیں کروں گا اور کر رہا ہوں۔اگر مقامی احباب کی خبر گیری اور شہر میں پھر بھی کر ان کے گھروں میں جا جا کر فرداً فردا حال پوچھنا تھی پر ڈالتے ہو اور آپ لوگ خود یہ نہیں کریں گے کہ اپنے اپنے محلہ کی بیواؤں، یتیموں ، بیکسوں ، ضرورت مندوں کی خبر رکھو تو یہ کام میں بڑی خوشی سے بآسانی کر سکتا ہوں۔مگر پھر جماعت کی بیرونی ترقی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔میں بتا چکا ہوں کہ اب زمانہ اور طرز پر آگیا ہے۔اب خلیفہ کے لئے صرف سلسلہ کے مرکز کا مقام ہی نہیں بلکہ باہر کی تمام جماعتوں کی باگ بھی براہ راست اپنے ہاتھ میں لکھنی پڑتی ہے اور مخالفین سے بھی زیادہ تر خود ہی پیٹنا پڑتا ہے اور یہ کام ہے بھی سارا دماغ کے متعلق۔میں جب باہر نہیں آتا یا کوچہ کوچہ پھر کر خبر گیری نہیں کرتا تو کئی لوگ سمجھتے ہوں گے کہ مزے سے اندر بیٹھا ہے۔انہیں کیا معلوم کہ میں تو سارا دن ترجمہ وغیرہ لکھنے یا جماعت کی ترقی کی تجاویز سوچنے ، ڈاک کا جواب دینے دلانے میں جنوح کر کے ان گرمی کے دنوں میں بھی رات کے ایک بجے تک اس کام کے لئے جاگتا رہا ہوں۔پھر تمہارے لئے دعائیں کرنا بھی میرا فرض ہے کبھی کبھی مجھے خیال