سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 46

۴۶ کا سال ایک اور پہلو سے بھی جماعت احمدیہ کی تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔قارئین کو یاد ہو گا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ کی ولادت کی پیشگوئی میں آپ کو ایک لقب عالم کباب بھی دیا گیا تھا۔جس کا مطلب اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السّلام پر منکشف نہ ہوا یہ وہ سال ہے جس میں عملاً دنیا کو اس لقب کا مطلب سمجھا دیا گیا اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کے خلافت پر متمکن ہونے کے بعد اسی سال ایک عالمی جنگ نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کہ زبان حال سے ایک عالم کباب کے ظاہر ہونے کی خبر دی یعنی ایک ایسے وجود کے ظاہر ہونے کی خبر دی جس کے زمانہ میں ایک عالمی جنگ نے دنیا کو کباب کر دیا تھا۔اس جنگ نے کچھ اس طرح ایک عالم کے جسموں اور دلوں کو کباب کیا کہ اس کی کوئی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔تاریخ انسانی میں یہ وہ جنگ تھی جس میں حقیقتا انسان نے انسان پر آگ کی بارش برسائی اور لکھوکھا انسان اور ہزاروں شہر اس جنگ کی نذر ہو گئے۔یہ وہ پہلی جنگ تھی جس میں ہار جیت کا استحصار کلیہ آگ کی قوت یعنی FIRE POWER پر تھا۔یہ وہ پہلی جنگ تھی جسے فی الحقیقت عالمی جنگ قرار دیا جا سکتا تھا۔اور کوئی ایک ملک بھی ایسا نہ تھا جو اس کی تباہ کاریوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ متاثر نہ ہوا ہو۔شہروں کے شہر جل کر خاکستر ہو گئے۔ملکوں کے ملک ویران ہو گئے۔اس کی ہلاکت خیزیوں سے از منہ گزشتہ کی ہولناک ترین جنگوں کو بھی کوئی نسبت نہیں۔ذرا تصور کیجیئے کہ صرف مغربی محاذ کے ایک سیکٹر پر ایک ہولناک طویل معرکے میں تین لاکھ برطانوی سپاہی کام آئے بوڑھوں بچوں اور عورتوں کا تو ذکر ہی کیا۔اسی لاکھ صرف ان نوجوانوں کی تعداد ہے جو اس جنگ میں موت کے گھاٹ اتارے گئے۔مشرقی یورپ کی ایک ریاست سربیا کی نصف آبادی اس جنگ میں ہلاک ہو گئی بیٹے ۱۹۱۴ء کا جلسہ سالانہ اس سال کا ذکر اب ہم ان تقاریر پر ختم کرتے ہیں جو جماعت احمدیہ کے شاہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر چار دن تک مختلف وقتوں میں آپ نے ۲۶ تا ۲۹ ؍ دسمبر ا حباب جماعت کے سامنے فرمائیں۔یہ چاروں تقریریں اس لحاظ سے پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔اه A HISTORY Of Europe By RT۔HON, H۔A۔L, FISHER, PP۔1156–1157۔