سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 339

۳۳۹ نمائندے اس وقت یہاں بیٹھے ہیں وہ اپنے آپ سے پوچھ لیں۔کیا ان میں سے سب نے اپنی بہنوں کو ورثہ میں سے حصہ دیا۔یہ کوئی ایسا حکم نہیں جس کے متعلق کسی قسم کا اختلاف ہو یا کسی اجتہاد کی ضرورت ہو۔سب فرقوں کے لوگ اسے درست تسلیم کرتے ہیں اور نسلاً بعد نسل اسے پہنچایا گیا ہے" د رپورٹ مجلس مشاورت ۹۳۷ه مث ) پھر اس معاملہ میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ پیش کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: حضور (حضرت مرزا غلام احمد سیح موعود علیہ السّلام نافل ) کی وفات کے بعد اپنے خاندان کے لحاظ سے ہم نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ بہنوں کو حصہ دیا اور والدہ صاحبہ کا حصہ نکالا۔اس وقت ایک سرکاری افسر آیا جس نے آکر کہا کہ آپ قانون کی رو سے ایسا نہیں کر سکتے۔میں نے اُسے کہا۔اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو ہم ایسی جائداد اپنے پاس رکھنے کے لئے تیار نہیں اور اسے لعنت سمجھتے ہیں؟ درپورٹ مجلس مشاورت ۳۶ داشته بعد ازاں ایک اور مجلس مشاورت پر نظارت اصلاح و ارشاد کو اس طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا :- اصلاح و ارشاد کے محکمہ کا فرض ہے کہ وہ جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی تحریک کرتا رہے کہ وہ اپنی جائیداد سے شریعیت کے مطابق اپنی لڑکیوں کو حصہ دیا کریں۔" زمینداروں کو میں نے ایک دفعہ نصیحت کی تھی کہ وہ اپنی لڑکیوں کو اور ہولوں کو اپنی جائیداد سے حصہ دیا کریں اور مجھے یاد ہے کہ اس وقت بعض دوستوں نے اس پر عمل بھی کیا تھا مگر پھر وہ بھول گئے انہوں نے سمجھا کہ شاید خدا تعالیٰ کی خوشنودی صرف ایک سال کیلئے ہی ضروری ہے پھر اس کی ضرورت نہیں۔در پورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ ۶ ۲۵۰ تا حت