سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 301
+ اس وقت اس مجترنسند موالات کو استعمال کرو جو ہلاکو خاں کے ماننے سے عباسی سلطنت کے ملنے پر استعمال کیا گیا نہ کہ اسکے عکس ترک موالات کا نسخہ اے عزیزو! ہوشیار آدمی کسی سبق کو بھلاتا نہیں اور دانا کسی عبرت کی بات کو ضائع نہیں ہونے دنیا۔اس فتنہ کے وقت میں یہ تو سوچو کہ آج سے پونے سات سو سال پہلے اسلامی حکومت کو موجودہ صدمہ سے بہت زیادہ صدمہ پہنچا تھا۔اب تو کچھ نہ کچھ ڈھانچہ موجود بھی ہے اس وقت تو ہیولیٰ بھی باقی نہ رہا تھا۔اس وقت کیا ہتھیار تھا جو کام آیا تھا اور کیا گرہ تھا جس سے یہ سوال حل ہوا تھا۔ایک دفعہ کا تجربہ شدہ نسخہ اس قسم کی ہماری کے دوبارہ ظاہر ہونے پر اس بات کا مستحق ہے کہ سب سے پہلے اسی کا تجربہ کیا جائے۔بغور تو کرو کہ جب ترکوں نے خلافت عباسیہ کے محل کی اینٹ سے اینٹ سجا دی تھی۔جب ان کے ٹڈی دل لشکروں کا مقابلہ کرنے والا مسلمانوں میں کوئی باقی نہ رہا تھا۔اور جب اسلام کے مقدس مقامات ایک لاوارث کی طرح دشمنوں کے رحم پر تھے اس وقت کیا علاج تھا جو ہمارے آباء نے سوچا تھا۔اور کیا وہ اس علاج میں کامیاب ہوئے تھے یا نا کام۔اگر تم کو یاد نہیں کہ انہوں نے کیا تدبیر اختیار کی تھی اور اگر تم اس سبق کو فراموش کر چکے ہو تو سنو۔اس وقت انہوں نے موالات کے ہتھیار سے نہ کہ ترک موالات کے سہتھیار سے ان پر حملہ کیا تھا۔اور آخر کفر کو فنا کر کے اسی کے جسم اور اسی کے پوست اور اسی کے خون سے اسلام کے لئے ایک نیا جسم تیار کر دیا تھا۔جس میں اسلام کی روح نے دنیا کو پھر اپنی جادو بیانی کا والہ وشیدا بنا نا شروع کر دیا تھا اُس وقت کے علماء نے جو اس وقت کے علماء سے کہیں علم و فضل میں بڑھ کر تھے اور جن کے عمل کا نتیجہ ان کی رائے کے صائب ہونے پر