سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 284
Fay جو عقل و خرد کے خرمن کو پھونک ڈالیں اور ضبط و تحمل کے تقاضوں کو بھاڑ میں جھونک دیں۔انہیں ایسے آتش نواؤں کی ضرورت تھی جو سادہ لوح عوام کے جذبات کو بھڑکا کر ایک ایسا اٹلا د تیار کریں جن کے شعلے آسمان تک پہنچیں اور جس کی بینائی برصغیر کے کناروں کو محیط ہو۔احمدی جماعت کے اس نوجوان رہنما کو بھلا کیا حق پہنچتا تھا کہ مسلمانوں کو بے نتیجہ کھوکھلی اور عامیانہ سیاست کے چنگل سے نکال کر ایک بالغ نظر با نمر لائحہ عمل کی طرف بلائے۔نتیجہ وہی نکلا جس کی ان حالات میں توقع کی جا سکتی تھی۔اس بے وقت کی راگنی کی بھلا کیسے سزا نہ دی جاتی۔لازنا احمدی رہنما کے پر خلوص مشوروں کی کچھ نہ کچھ سزا اس کی جماعت کو ملنی چاہیے تھی سو ایسا ہی ہوا۔ایسا ہی ہوا اور بعض جو شیلے علماء نے محض گالیوں کے زبانی جمع خرچ کو کافی نہ سمجھتے ہوئے احمدیوں کے خلاف اس بناء پر ایذاء رسانی کی ایک ملک گیر مہم چلا دی کہ یہ لوگ مخلافت ترکیہ کو برحق نہیں سمجھتے۔اور ملک میں بدامنی پھیلانے والی تحریکات کی محض اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ انگریزی حکومت کا تسلط قائم رہے جس کے ختم ہونے کے روشن امکانات پیدا ہو چکے ہیں۔یہ تحریک بڑی چابکدستی اور بے رحمی کے ساتھ چلائی گئی اور اس کے نتیجہ میں جگہ جگہ احمدیوں پر سخت مظالم توڑے جانے لگے جن کا کچھ تذکرہ آئندہ کیا جائے گا۔اس صورت حال پر تقریبا نو ماہ کا عرصہ گزرگیا۔دھواں دھار تقریریں ہوئیں۔انگریزوں کو سخت گالیاں دی گئیں مسلمان عوام میں دلفریب نعروں سے جوش پیدا کیا گیا حتی کہ خلافت ترکیہ کے حق میں ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مسلمانوں کے جذبات شدید ہیجان پکڑ گئے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین بات نکلا۔استحادی طاقتوں نے معاہدہ ترکیہ کی صورت میں ایک نہایت ظالمانہ فیصلہ کیا جو ترکی کے لئے نہیں بلکہ سارے عالم اسلام کے لئے انتہائی تکلیف دہ تھا۔اس پر یکم جون نشا کو الہ آباد میں مسلمان راہ نماؤں کی ایک کانفرنس طلب کی گئی۔اس کا نفرنس میں بھی اس جلسہ کی منتظم نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو دعوت دی لیکن اس بار بھی رہی پہلی کہانی دہرائی گئی یعینی یکم جون کو ہونے والے اجلاس کی دعوت آپ کو ۳۰ مٹی کو پہنچی گویا اس کا نفرنس میں اگر آپ شمولیت کرنا بھی چاہتے تو آپ کے لئے سوچنے اور لکھنے کا بظاہر کوئی وقت نہ تھا لیکن میں صاحب عزم و ہمت انسان کو یہ دعوت دی گئی تھی اس نے جوابا اسی عزم و حوصلہ کا اشلا کیا۔جو ایک بار پہلے کر چکا تھا۔اسی دن چند گھنٹوں کے اندر ایک معرکۃ الآراء مضمون بعنوان معابر کرکے