سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 278

فرقوں مثلاً شیعوں اور اہل حدیث وغیرہ کی ہمدردیاں بھی حاصل ہو جائیں گی جو تر کی خلافت کا جوا اپنے کندھوں پر مزید برداشت کرنے کے لئے کسی طرح بھی تیار نہیں ہو سکتے۔آپ نے حجاز کے سوال کو خاص طور پر پیش کیا اور واضح کیا :۔دوسرا امر اس کوشش کو کامیاب بنانے کے لئے یہ ضروری ہے۔کہ مسلمان حکومت حجازہ کا سوال پیچ میں سے بالکل اُٹھا دیں۔عربوں نے غیرا قوام کی حکومتوں کے ماتحت اپنی زبان اور اپنے تمدن کے متعلق جو کچھ نقصان اُٹھایا ہے، وہ مخفی امر نہیں ہے اور ہر ایک شخص جو ان ممالک کے حالات سے آگاہ ہے اس امر سے واقف ہے اور پھر عربوں نے جو کچھ قربانی اس آزادی کے حصول کے لئے کی ہے ، وہ بھی چھپی ہوئی بات نہیں مغرب کی غیرت قومی جوش مار رہی ہے اور اس کی حریت کی رگ پھڑک رہی ہے۔وہ اب کسی صورت میں اپنی مرضی کے خلاف، ترکوں کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جاسکتا۔تیرہ سو سال کے بعد اب وہ پھر اپنی چار دیواری کا آپ حاکم بنا ہے اور اپنے حسین انتظام اور عدل و انصاف سے اس نے اپنے حق کو ثابت کر دیا ہے۔اس کے متعلق کوئی نئی تجویز نہ تو کامیاب ہو سکتی ہے نہ کوئی معقول انسان اس کو قبول کر سکتا ہے۔نہ عرب اسے ماننے کے لئے تیار ہے۔حجانہ کا آنہ اور بہنا ہی اب اسلام کے لئے مفید ہے۔مقامات مقدسہ کا ایک چھوٹی اور نظر طمع سے بچی ہوئی سلطنت میں رہنا بہت بہتر ہے۔میں اس سوال کو ہمیشہ کے لئے فیصل شده خیال کرنا چاہیے کا ہے یہ دونوں مشورے اگرچہ ہندوستانی مسلمانوں کو نہایت ناگوار گزرے مگر ترکی کے قوم است مسلمانوں نے کمال اتاترک کی قیادت میں بعد ازاں عملاً دنیا پر یہ ثابت کر دکھایا کہ یہی رائے درست متی اور نہ کی کا مفاد اسی سے وابستہ تھا۔چنانچه کمال اتاترک کے سامنے جب ہندوستان کے علماء کا ایک وفدیہ درخواست لے کر پیش ہوا کہ اب آپ ہی خلیفہ المسلمین بن جائیے تو اس نے بڑی حقارت سے اس تجویز کو رد کر دیا۔انسی طرح جب اتاترک کے اپنے ساتھیوں میں سے جو تحریک انقلاب میں اُن کے ساتھ شامل تھے بعض نے الفضل ، ستمبر 1912ء مسل