سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 23
FM ایسا ہونا چاہیئے کہ جماعت کا کوئی فرد عورت ہو یا مرد باقی نہ رہے جو لکھنا پڑھنا نہ بھانتا ہو۔صحابہ نے تعلیم کے لئے بڑی بڑی کوششیں کی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ جنگ کے قیدیوں کا فدیہ یہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ مسلمان بچوں کو تعلیم دیں۔جب دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کیا فضل لے کر آئے تھے تو جوش محبت سے رُوح بھر جاتی ہے۔آپ نے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ہر معاملہ میں ہماری رہنمائی کی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ ایج نے بھی اس نقش قدم پر چل کر ہر ایسے امر کی طرف توجہ دلائی ہے جو کسی بھی پہلو سے مفید ہو سکتا ہو (۳۵۵-۳۶) جماعت کی دنیوی ترقی - تعلیم کے سوال کے ساتھ ہی یہ بھی قابل غور امر ہے کہ جماعت کی دنیوی ترقی ہو۔ان کو فقر اور سوال سے سبچایا جائے جو واعظین تبلیغ اور تعلیم شرائع کے لئے جائیں اُن کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ وہ جماعت کی مادی ترقی کا بھی خیال رکھیں۔رق) جماعتی ترقی کا مسلسل محاسبہ۔۔" واعظین اپنے دوروں میں اس امر کو خصوصیت سے مد نظر رکھیں کہ جماعتیں بڑھ رہی ہیں یا گھٹ رہی ہیں اور تعلیمی اور دنیوی ترقی کیا ہو رہی ہے ؟ عملی پابندیوں میں جماعت کی کیسی حالت ہے۔باہم اخوت اور محبت کے لحاظ سے وہ کس قدر ترقی کہ رہے ہیں۔ان میں باہم نزا ئیں اور جھگڑے تو نہیں۔یہ تمام امور ہیں جن پر واعظوں کو نظر رکھنی ہوگی اور اس کے متعلق مفصل رپوٹ میں میرے پاس آتی رہیں " دحت ۳) ره