سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 266

صدور جد کے لالچی دنیا دار خود غرض اور قوم فروش ہیں الا ماشاء الله یکن کسی قوم کے تمام افراد کو ایسا نہیں سمجھتا۔اس کے مقابلے میں میں کانگریس کے ایک طبقہ کو دیکھتا ہوں کہ اس میں ایثار، قربانی اور ست اخلاص پایا جاتا ہے۔بے شک کا نگریسیوں کے اصول سے مجھے اختلاف ہے لیکن اگر میرے سامنے ذاتی دوستی کا سوال ہو تو میں ایک کانگریسی کو گورنمنٹ کے خوشامدی پر ترجیح دوں گا۔کیونکہ میں دیکھتا ہوں۔کہ یہ گورنمنٹ کے خیر خواہ کہلانے والے حد درجہ کے خود غرض لالچی اور نفس پرست واقع ہوئے ہیں کا لے هشتم - آپ اپنی جماعت کو سیاست میں بھی ہمیشہ اخلاق کے اس بلند مقام پر فائز دکھنا چاہتے تھے کہ جو کام کیا جائے وہ بنی نوع انسان کی بہبود اور خدمت کے لئے کیا جائے اصولوں کی خاطر جد و جہد ہو ذاتی مقاصد تعریف و توصیف اور انعامات ہرگز پیش نظر نہ رہیں۔چنانچہ آپ نے مند مایا: یہی ہندوستانیوں میں نقص ہے کہ اول تو وہ کام نہیں کرتے اور جب کرتے ہیں تو معا خیال آجاتا ہے کہ ہمیں کچھ اس کے بدلے میں ملنا چاہیئے حالانکہ میرے نزدیک اگر ہم کوئی کام اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں اس کے بدلہ میں کچھ ملے گا تو اس کام کے کرنے سے ڈوب مرنا بہتر ہے یا کہ اس اصول پر اپنی جماعت کے کارکنان کا بڑی سختی سے جائزہ لیتے ہوئے آپ نے بڑے دکھ سے اس امر کا اظہار کیا کہ : مجھے تعجب آتا ہے۔ابھی تک ہماری جماعت میں یہ بلندی پیدا نہیں ہوئی کئی لوگ ہیں جو لکھ دیتے ہیں فلاں موقع پر میں نے گورنمنٹ کا فلاں کام کیا تھا۔اب مجھے ضرورت ہے میرا فلاں کام کرا دیا جائے۔مجھے اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے گویا میرے منہ پر چپیڑ مار دی ہیں حیران ہوتا ہوں کہ سوائے کسی ذاتی فائدہ کی تمنا کے ہم کیوں کام نہیں کر سکتے پاتے نھم۔آپ کے طریق کارمیں جبر کو دخل نہیں تھا بلکہ آپ محض اخلاقی ہتھیاروں سے ہی کام لیتے تھے چنانچہ خلاف آئین تحریکوں کے مقابلہ میں بھی آپ نے کبھی خلاف آئین ذرائع کو اختیار کرنے کی له المفضل ، جولائی ۱۹۳۳ء ص - له الفضل ، جولائی ۱۹۳۲ء منا - ٣ الفضل ، جولائی ۹۳ منا