سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 260

اور چوہدری صاحب اور ان کا غیر احمدی دوست اور ں اور احباب آئے تومیں نے ان کو وہ کشف بتا دیا۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد جب ڈاکٹر صاحب نے تھرما میٹر لگا کر دیکھا تو اس وقت تپ نہیں تھا۔دراصل وہ مچھر نہیں بولا تھا بلکہ اس کی طرف سے وہ فرشتہ بولا تھا جس کا مچھر پر قبضہ تھا۔تو ہر ایک چیز جو انتظام اور ارادہ کے انتخت کام کر رہی ہے۔ملائکہ کی ہستی کا ثبوت ہے یال ملائکہ کی ضرورت اور ان کے وجود پر مختلف اعتراضات بیان کر کے ان کے جوابات دیے۔ایمان بالملائکہ کی حکمتیں بیان فرمائیں اور قرآن کریم سے استنباط کرتے ہوئے فرشتوں کے اقرار کرنے اور شیطان کے انکار کرنے کا صحیح مفہوم ان الفاظ میں بیان فرمایا :- خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمه (۲-۲۵۷) جو شخص طاغوت کا انکار کرتا ہے اور اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیتا ہے کہ جو ٹوٹتا ہی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔طاغوت شیطان کو کہتے ہیں۔اب اگر انکار کے معنے کسی شے کی ذات کے انکار ہی کئے جاویں تو اس آیت کے یہ معنے ہونگے کہ ہلاکت سے وہی شخص سجتا ہے جو شیطان کے وجود کا انکار کرے اور اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار۔حالانکہ یہ معنے سراسر غلط ہیں۔کیونکہ قرآن کریم صاف صاف طور پر خدا تعالے کے وجود کا بھی اقرار کرتا ہے اور شیطان کے وجود کا بھی اقرار کرتا ہے۔نہیں اقرار سے اور ایمان سے اس آیت میں یہی مراد ہے کہ شیطان کی باتوں کو رد کرتا ہے اور خدا تعالے کی باتوں کو مانتا ہے اب اگر یہی معنے ایمان کے ملائکہ کے متعلق کئے جائیں تو ان پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہوگا کہ ان کی تحریکات کو مانا کرو۔اسی طرح کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے یہ معنے ہوں گے کہ جو احکام الہی کتابوں میں ہوں ان کو مانو۔جو کچھ رسول تم کو حکم دیں ان کو مانو اور قیامت پر ایمان کے مله املائكة الله )