سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 243
۴۳۳ دستوئیں بات یہ ہے کہ نا امید نہ ہو اور اللہ پر توکل ہو۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو منت کرتے کرتے ایسے موقع پر نا امید ہو کر مٹ جاتے ہیں جبکہ انہیں محنت کا ثمرہ ملنے والا ہوتا ہے۔ایک بزرگ کا واقعہ لکھتے ہیں کہ وہ ہر روز رات کو اُٹھ کر بعض امور کے متعلق دُعا مانگا کرتے تھے۔اتفاقاً ایک دفعہ ان کا ایک مریدہ ان سے ملنے کے لئے آیا اور تین چار دن اُن کے پاس ٹھرا جس وقت وہ رات کو نماز کے لئے اُٹھے اس کی بھی آنکھ کھل گئی اور وہ بھی اپنے طور پر عبادت میں مشغول رہا۔جب پیر صاحب دُعا سے فارغ ہوئے تو ان کو ایک آواز آئی کہ تو خواہ کتنی ہی گریہ وزاری کر تیری دعا قبول نہ ہوگی۔یہ آواز گو الہامی تھی مگر اس مرید کو بھی سنائی دی۔مرید نے دل میں اس پر تعجب تو کیا مگر پیر کے پاس ادب سے خاموش رہا۔دوسرے دن پھر اسی طرح وہ بزرگ اُٹھے اور دُعا میں مشغول ہوئے۔اس دن بھی اُسی طرح آواز آئی اور مرید نے بھی شنی مگر پھر بھی خاموش کہ ہا۔تیسرے دن پھر وہ بزرگ اُٹھے اور اسی طرح دعا اور عبادت میں مشغول ہوئے اور پھر وہی آواز آئی جو مرید نے بھی سنی تب اس سے نہ رہا گیا اور اس نے پیر صاحب سے کہا کہ ایک دن ہوا دو دن ہوا تین دن سے آپ کو یہ آواز آرہی ہے اور آپ بھی بس نہیں کرتے اس پر وہ بزرگ بولے کہ نادان تو اتنی جلدی گھبرا گیا۔مجھے تو یہ آواز بنین سال سے آرہی ہے مگر میں سستی نہیں کرتا۔کیونکہ دُعا عبادت ہے اور بندہ کا کام عبادت ہے۔خدا تعالے معبود ہے اس کا کام دُعا کو متبول کرنا یا رو کرنا ہے وہ اپنا کام کر رہا ہے میں اپنا کام کر رہا ہوں۔تو پیچ میں کون ہے جو گھبرا رہا ہے۔اس پر وہ مرید خاموش ہو گیا۔اگلے دن جو وہ دعا کے لئے اُٹھے تو ان کو الہام ہوا کہ اس سنیں سال کے اندر کی تیری سب دعائیں قبول کی گئیں کیونکہ تو امتحان میں کامیاب ہوا اور آزمائش میں پورا اترا۔اس پر انہوں نے مرید سے کہا کہ دیکھ اگر میں تیری نصیحت پر عمل کرتا تو کس قدر گھاتے ہیں رہتا۔مجھے خدا پر توکل تھا آخر اس کا قرب