سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 219
۲۱۹ ہے جنہوں نے اس وقت تک اُس کا نام بھی نہیں سنا ہوتا (۳) ایسے لوگوں کو خبر دیتا ہے جن کا مذہب اُن کے مذہب سے بالکل مختلف ہوتا ہے اور اسی طرح ایسے بعض اور بندوں کے لئے جن کو وہ چن لیتا ہے کرتا ہے۔مگر شیطان ایسا نہیں کر سکتا۔کیونکہ یہ بات اقتدار کو چاہتی ہے اور شیطان کو کوئی اقتدار حاصل نہیں ہے اسے حدیث نفس اور اس کی پہچان کے متعلق بعض دلچسپ امور بیان فرمانے کے بعد یہ سبحث فرمائی کہ شیطانی خوابوں کی پہچان کے کیا طریق ہیں اور رحمانی خوابوں کے کیا طریق ہیں۔رحمانی خوابوں پر گفت گو کرتے ہوئے اس خطرہ کی بھی نشاندہی فرمائی کہ بعض دفعہ رحمانی خوا ہیں بھی ایک انسان کے لئے سخت ابتلاء اور ٹھو کر کا موجب بن جاتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں :- دوسرے وہ خواہیں جو ابتلاء کے لئے آتی ہیں یہ بہت خطرناک ہوتی ہیں اور ان کی حقیقت نہ سمجھنے سے اکثر لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔اس لئے اس کو خوب غور سے سنو اور سمجھو۔یہ ایسی خوابیں ہوتی ہیں کہ ایک انسان بظاہر متقی اور نیک ہوتا ہے۔عبادتیں کرتا ہے۔احکامِ شریعت پر چلتا ہے لیکن ساتھ ہی اس کے دل میں پوشیدہ طور پر اپنی بڑائی کا خیال بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ خیال ایسا پوشیدہ اور نہاں در نہاں ہوتا ہے کہ وہ خود بھی نہیں جانتا۔تو ایسا انسان بظاہر انکسار کا پتلا، نہایت عبادت گزار اور متقی نظر آتا ہے۔مگر اس کے دل کے کسی کونے میں عجب اور تکبر کی آلائش ہوتی ہے جو بڑھتی رہتی ہے جس کی وجہ سے وہ کسی وقت خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں میرا بھی کوئی حق ہے۔ایسا انسان جب اپنی ظاہرہ نیکی پر پھولتا اور تکبر میں آتا ہے تو ابتلاء میں ڈالا جاتا ہے۔اس وقت کن بھی اُسے آواز آتی ہے کہ تو مینے ہے کبھی یہ سنائی دیتا ہے کہ تو موسی ہے۔کبھی یہ کہ تو ابراہیم ہے اور کبھی یہ کہ تو محمد ہے اور آجکل کبھی یہ آواز آجاتی ہے کہ تو مسیح موجود ہے ، اس کا بروز ہے اس کا موعود ہے۔غرض له حقيقة الرؤياء من تا صلا