سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 211

اسے خاص مواقع کی صحیح کسی تو ویسے ہی میں ہیں۔ہاں ان خطابات میں سے چند فرات پیش کرتا ہوں جو دلوں میں تلاطم برپا کر دیا کرتے تھے:۔اس وقت ہم جنگ کے میدان میں کھڑے ہیں اور جنگ کے میدان میں آکر سپاہی لڑتے لڑتے سو جائے تو مر جاتا ہے۔ہمارے سامنے نہایت شاندار مثال ان صحابہ کی ہے جن کے مثیل ہونے کے ہم تدعی ہیں۔۔۔۔۔۔دشمن پوری طرح کوشش کر رہا ہے اور سارا زور لگا رہا ہے کہ حضرت میسج موعود علیہ السّلام ہمیں جو جھنڈا دے گئے ہیں اُسے گرا دے اب ہمارا فرض ہے کہ اُسے اپنے ہاتھوں میں پکڑے رہیں۔اور اگر ہاتھ کٹ جائیں تو پاؤں میں پکڑ لیں اور اگر اس فرض کی ادائیگی ہیں ایک کی جان چلی جائے تو دوسرا کھڑا ہو جائے اور اس جھنڈے کو پکڑے۔میں ان نمائندوں کو چھوڑ کر ان بچوں اور نوجوانوں سے جو اوپر بیٹھے سن رہے ہیں کہتا ہوں۔ممکن ہے یہ جنگ ہماری زندگی میں ختم نہ ہو گو اس وقت لوہے کی تلوار نہیں چل رہی لیکن واقعات کی۔زمانہ کی اور موت کی تلوار تو کھڑی ہے ممکن ہے یہ چل جائے تو کیا تم اس بات کے لئے تیار ہو کہ اس جھنڈے کو گرنے نہ دو گے داس پر سب نے بیک آواز لبیک کہا، ہمارے زمانہ کو خدا اور اس کے رسولوں نے آخری زمانہ قرار دیا ہے۔اس لئے ہماری قربانیاں بھی آخری ہونی چاہئیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا یہ بھی طریق تھا کہ بار بار مختلف رنگ میں حاضرین کی توجہ دعاؤں اور استغفار اور تقوی اللہ کی طرف مبذول کرواتے رہتے۔جس کی وجیسے فضا تقدس سے اس طرح بھر جاتی جیسے برساتی ہوائیں نمی سے۔ایسے مواقع پر بسا اوقات وفور جذبات سے آنکھیں بھی اُمنڈ آئیں۔بالخصوص الوداعی تقریر کے بعد کی دعا، نمدا تعالیٰ کے حضور الحاج اور عاجزی اور انابت کا ایک ایسا عجیب منظر پیش کرتی۔جس کی کوئی نظیر دنیا میں کہیں نظر نہیں آسکتی۔آپ کا عظیم اعجاز یہ نہیں کہ آپ نے اپنی زندگی ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء من ۹-۹۲