سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 190

19" مسلہ میں ایک اور موقع پر نمائندگان کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا :- سب کمیٹیوں کے لئے ممبران کا انتخاب کرتے وقت احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔مجھے شکایت پہنچی ہے کہ اس بارہ میں دوست اپنی ذمہ داری کو پوری طرح محسوس نہیں کرتے بلکہ خود میرے کانوں نے ایک دفعہ سنا کہ ایک شخص دوسرے سے کہ رہا تھا کہ فلاں سب کمیٹی کیلئے میرا نام پیش کر دو۔کسی سب کمیٹی کے لئے خود اپنا نام پیش کر دیا بشرطیکہ جس امر پر غور کرنے کے لئے سب کمیٹی بنائی گئی ہو اس میں کوئی مہارت رکھتا ہو کوئی حرج کی بات نہیں مگر دوسرے سے اپنا نام پیش کرانا اور کہنا کہ تم میرا نام پیش کرو ایک معیوب امر ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عہدہ کے لئے اپنا نام پیش از کروہ تاہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں چونکہ وہی لوگ شامل ہوتے تھے جو رات دن آپ کے قرب و جوار میں رہتے تھے اس لئے آپ جانتے تھے کہ کون مشورہ دینے کا اہل ہے اور کون نہیں مگر ہماری مجلس شوری مختلف جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے اور میں ہر ایک کے متعلق نہیں جانتا کہ وہ کسی امر کے متعلق مشورہ دینے کا اہل ہے یا نہیں۔اگر قادیان کے لوگوں تک ہی یہ مجلس شوری محدود ہو تو میں خود ہی سب کمیٹیوں کے لئے ممبروں کا انتخاب کرلوں لیکن چونکہ ہماری اس مجلس میں بیرونی جماعتوں کے دوست بھی کثرت سے شریک ہوتے ہیں۔اور مجھے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں سے کون قانون کے متعلق زیادہ واقفیت رکھتا ہے۔کون اخلاق کے متعلق کون تعلیم کے متعلق کون آڈٹ کے متعلق زیادہ واقفیت رکھتا ہے اس لئے اگر کوئی دوست اپنا نام پیش کر دیں یا کوئی دوست اپنی ذاتی واقفیت کی بناء پر کسی اور دوست کا نام پیش کر دیں تو یہ گوئی معیوب بات نہیں لیکن دوسرے کو کہنا کہ تم میرا نام پیش کرو سخت معیوب بات ہے کا مسلہ ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۹۳۷ به هشت