سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 160

140 حضور کی رہائیش و سادگی حضور کی رہائیش کا جو کمرہ تھا وہ نہایت سادہ اور مختصر تھا۔ایک طرف میز پر چند کتا ہیں پڑی ہو ئیں اور دوسری طرف میز پر کچھ خطوط ہوتے اور ایک طرف ہو میو پیتھیک کی کچھ شیشیاں پڑی ہوئیں اور ایک طرف حضور کی چار پائی ہوتی جس پر معمولی سا بستر بچھا ہوا ہوتا ساتھ والا کمرہ لائبریری روم کہلاتا تھا جس میں مختلف قسم کی کتابیں الماریوں میں ہوتیں۔نیچے فرش پر قالین بچھا ہوتا تھا جس پر کچھ کتابیں اور کچھ خطوط پڑے ہوتے اور حضور نیچے فرش پر بیٹھ کر مطالعہ فرماتے۔اور دفتر کا کام بھی کرتے۔باہر برآمدہ میں طلاقات کے لئے کرسیاں بچھی ہو تیں اور ایک طرف پلنگ پر ڈاک پڑی ہوتی۔حضور رات گئے تک کام میں مصروف رہتے۔حسن سلوک حضور سلسلہ کے کارکنوں کے ساتھ کس طرح حسن سلوک فرماتے۔اس ضمن میں مکرم و محترم قاضی عبدالحمید صاحب سابق ایڈیٹر سن رائز" مرحوم کی حسب ذیل روایت بھی بیان کے لائق ہے۔۱۹۳۵ ء میں جب مجھے سن رائز " کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔اور اگر چہ میں واقف زندگی نہیں تھا۔میرا گزارہ الاؤنس جس پر کام شروع ہوا۔ایک سو روپے ماہوار تھا۔اور سن رائز کی ایک نگران کمیٹی تھی۔جس کے صدر شیخ مبشر احمد صاحب معصوم تھے اس کمیٹی نے ایک سال کے بعد میرے گزارہ الاؤنس میں دس روپے اضافہ کیا۔کمیٹی کو کبھی یہ خیال بھی نہ آیا کہ وہ سالانہ ترقی کا کوئی قاعدہ مقرر کرے۔سارا کام حسب دستور ہوتا رہا۔چنانچہ جب میرا نکاح ہوا تو اس وقت میرا یہی ایک سو دس روپے ماہوار گزارہ تھا۔اس کے علاوہ بجلی، پانی اور رہائش کی مفت سہولت ملی ہوئی تھی۔لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو اس تیرہ سال کے عرصہ میں جب کبھی میں نے اپنی ضرورت کے