سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 116

114 جو بدی کسی قوم میں ہو اس کی تردید میں جرات لیے کچھ دو۔اپنے عمل دیکھتا رہے کبھی سستی نہ کرے۔لوگوں کو اُن کی غلطی سے روکے۔ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے نیچے آئے۔لَوْ لَا يَنْهُهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ والاخبارُ عَن قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَآلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ کیوں انہوں نے نہ روکا۔۔۔۔۔۔۔غریبوں پر اگر وہ ظلم کرتے ہیں۔شریفوں کا ادب نہیں کرتے۔چوری کرتے ہیں۔جھوٹ بولتے ہیں۔ان پر تب پھر دو۔۔۔کبھی کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہ ہو۔میں اپنا طریق بتاتا ہوں میں نے کبھی کسی کی مرض کے متعلق بیان کرنا ہو توئیں دو تین مہینے کا عرصہ درمیان میں ڈال لیتا ہوں تا کہ وہ بات لوگوں کے دلوں سے بھول جائے تو اتنا عرصہ کر دینا چاہیئے۔اگر موقع ملے تو اس شخص کو جس میں یہ مرض ہے علیحدہ تخلیہ میں نرم الفاظ کے ساتھ سمجھاؤ ایسے الفاظ میں کہ وہ چڑ نہ جائے۔ہمدردی کے رنگ میں وعظ کرو۔ایک طرف اتنی ہمدردی دکھاؤ کہ غریبوں کے خدمتگار تم ہی معلوم ہو۔دوسری طرف اتنا بڑا ہو کہ تمھیں دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو۔دو فریق بننے نہ دو۔دو شخصوں کے جھگڑے کے متعلق کسی خاص کے ساتھ تمہاری طرفداری نہ ہو۔کوئی مرض پاؤ تو اس کی دوا فورا دو۔کسی موقع پر چشم پوشی کر کے مرض کو بڑھنے نہ دو۔ہاں اگر اصلاح چشم پوشی ہی میں ہو تو کچھ حرج نہیں۔لوگوں کو جو تبلیغ کرو اس میں ایک جوش ہونا چاہیے۔جب تک تبلیغ میں ایک جوش نہ ہو وہ کام ہی نہیں کر سکتا۔۲۱۰۰۰۰۰) سٹے باز نہیں ہونا چاہیئے۔لوگوں کے دلوں سے ادب اور رعب جاتا رہتا ہے۔ہاں مذاق نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم بھی کر لیا کرتے تھے اس میں حرج نہیں۔احتیاط ہونی چاہیے سنجیدہ معلوم ہو۔(۳) اور ہمدردی ہونی چاہیئے۔نرم الفاظ ہوں سنجیدگی سے ہوں۔سمجھنے والا سمجھے میری زندگی اور موت کا سوال ہے۔تمہاری ہمدردی وسیع ہونی چاہیئے۔احمدیوں سے بھی ہو غیر احمدیوں سے بھی ہو کے سورہ مائدہ آیت ۶۴