سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 87
دوسرا لیکچر اس پبلک جلسہ میں ہوا جو جماعت احمدیہ شملہ نے اس مبارک موقع سے فائد اُٹھاتے ہوئے منتقد کیا تھا اس جلسہ میں حضرت میر قاسم علی صاحب ، حضرت میر محمد اسحق صاحب اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی دلچسپ اور موثر تقاریر کے بعد آخری روز ۳۰ ستمبر ا ل کو حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے زندہ مذہب کے عنوان سے ایک نہایت موثر اور مفید لیکچر دیا۔اس لیکچر کے آخر پر آپ نے دنیا کے تمام مذاہب کے پیروؤں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ چیلنج دیا کہ مبادا تم لوگ یہ خیال کرو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو دنیا سے گزر گئے۔اب اسلام کی سچائی کا زندہ ثبوت کہاں سے حاصل کیا جائے۔ہیں اللہ تعالے پر توکل کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خود اپنے آپ کو زندہ ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہوں اور یہ بیچ دیتا ہوں کہ آج بھی اگر کسی مذہب کے پیرو آزمائیش کرنا چاہیں تو کچھ مریضوں کا انتخاب کر کے انہیں قرعہ اندازی کے ذریعہ بانٹ لیا جائے۔میں اپنے حصہ کے مریضوں کے لئے دعا کروں گا وہ اپنے حصے کے مریضوں کے لئے دعا کریں پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس کے ساتھ ہے۔اور کسی کی دھارے کو نمایاں اور امتیازی شان کے ساتھ قبول کرتا ہے۔تغییر الیکچر ۲ اکتوبرت والے کو مستورات میں ہوا۔یہ ایک انتہائی دل نشین اور دلگداز لیکچر ہے۔اور اس لائق ہے کہ اسے ہر زمانہ میں احمدی مستورات کے سامنے پیش کیا جاتا رہے۔ان تینوں تقاریر کے مطالعہ سے بشدت یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسے قاری کو جیں نے حضور کے آخری زمانہ کی تقاریر شنی ہوں یہ معلوم نہ ہو کہ مذکورہ بالا تقاریر کس دور میں کی گئی تھیں تو وہ نفسِ مضمون اندازیہ بیان اور کلام کی پختگی کے اعتبار سے ہرگز یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ خلافت کے ابتدائی ایام کی تقاریر ہیں جبکہ حضور کی عمر صرف ۲۵-۲۶ برس کی تھی۔کچھ عرصہ ہوا ایک دوست نے مجھ سے بعینہ اسی تاثر کا اظہار کرتے ہےجو تعجب ظاہر کیا اور ساتھ یہ سوال بھی کیا کہ اگر نو عمری میں بھی آپ کا ذہن اتنا پختہ ہو چکا تھا اور طرز کلام ایسی موثر ہو گئی تھی تو پھر کیا آپ نے خلافت کے بقیہ پچاس سالوں میں کوئی ترقی نہیں کی ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ علمی ترقی اور چیز ہے اور پختگی فکر اور چیز۔اگر چہ کم عمری ہی میں آپ کو بالغ نظری میسر تھی مگر وسعت نظر کوئی ایسی جامد حقیقت نہیں کہ کسی ایک