سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 86

AY حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا ایک واقعہ بیان فرمایا جسے من وعن اس لئے پیش کیا جارہا ہے کہ احباب جماعت کو اندازہ ہو سکے کہ اللہ تعالے کے برگزیدہ بندے کس طرح اپنے اوپر غیر معمولی مشقت عاید کر کے بھی دوستوں کی دلداری کرتے ہیں۔لیکن پھر بھی تن آسان معترضین کی زبانیں ہیں کہ طعن و تشنیع سے باز نہیں آتیں اور راحت کا سامان کرنے والوں کے لئے دُکھ کا سامان فراہم کر تی ہیں۔میں اگر چہ بیمار ہوں اور گلے میں درد ہے۔اور میرا ارادہ آج تقریبیہ کرنے کا نہ تھا لیکن بعض وقت انسان کو اپنے ارادے کے خلاف مجبورا کرنا ہی پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر جلسہ کے دنوں میں بوجہ ہماری باہر تشریف نہ لا سکتے لوگ حضرت صاحب کو دیکھنے اور آپ کا کلام سننے کے بہت خواہشمند تھے۔کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ میاں صاحب جا کر آبا سے کہو کہ حضور باہر تشریف لاویں۔میں اس وقت چھوٹا تھا۔میں نے جا کر حضرت صاحب سے اسی طرح کہہ دیا۔اس پر حضرت صاحب خفا ہوئے اور فرمایا کہ میاں کیا تم نہیں جانتے کہ میں بیمار ہوں۔تم نے کیوں خود ہی ان لوگوں کو جواب نہ دے دیا۔میرے پاس کیوں آئے یکیں واپس آگیا اور آکر ابھی لوگوں سے یہ واقعہ بیان ہی کر رہا تھا کہ کسی نے کہا کہ حضرت صاحب بڑی مسجد کو تشریف لے جا رہے ہیں۔اور آپ کی وہاں تقریر ہوگی۔اب میں دل میں بہت شرمندہ ہو رہا تھا کیونکہ مجھے خیال آیا کہ میں تو ابھی آپ سے پوچھ کر آیا تھا اور حضرت صاحب کے کہنے کے مطابق ہی ان لوگوں کو بتا رہا تھا کہ حضرت صاحب بیمار ہیں وہ نہیں آ سکتے۔اب یہ لوگ کہیں گے کہ شاید میں نے یہ بات یونہی آکر کہہ دی تھی۔سو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ باوجود ہماری کے اور با وجود ارادہ نہ ہونے کے بھی انسان کو بولنا ہی پڑتا ہے کہ الفضل ۲ اکتوبرت له من (9)