سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 85
ذریعہ ہے اپنی جماعت کے احباب کو پھر اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ انجمن ترقی اسلام کی مالی حالت کی درستی کی بھی فکر کریں۔میں ان دنوں بیمار ہوں اور مجھے فکر ہے کہ یکن اپنی زندگی میں جماعت کی ہر قسم کی حالت کو درست دیکھ لوں شملہ آنے سے میری صحت میں ترقی معلوم ہوتی ہے لیکن پھر بھی طبیعت ابھی بہت کمزور ہے۔چنانچہ تین چار دن سے پھر تپ کا دورہ ہے اور اس وقت بھی کہ میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں میں تپ محسوس کرتا ہوں۔پس مجھے جلدی ہے کہ کسی طرح احمدی جماعت کے تمام کام میری زندگی میں تکمیل کے درجہ پر پہنچ جائیں اور اس کی طرف میں آپ لوگوں کو خاص طور پر متوجہ کرتا ہوں۔اللہ تعالے کا فضل ہے کہ اُس نے مجھے ایک ایسی جماعت کا انتظام سپرد کیا ہے جس کی نسبت اگر میں یہ کہوں کہ وہ میری آواز پر کان نہیں رکھتی تو یہ ایک سخت ناشکری ہوگی۔میری بات کی طرف توجہ کرنا تو ایک چھوٹی سی بات ہے میں دیکھتا ہوں کہ بہت ہیں جو میرے اشارے پر اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی ہر عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِك - اور اس اخلاص بھری جماعت کو مخاطب کرتے وقت میرا دل اس یقین سے پر ہے کہ وہ فورا اس نقص کو رفع کرنے کی کوشش کرے گی۔جس کی طرف میں نے ان کو متوجہ کیا ہے" (اخبار الفضل فضمیمه ۲۲ ستمبر اور ملا ) شملہ کے قیام کے دوران حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خطبات جمعہ اور عید کے علاوہ تین اہم لیکچر دیئے اور منتقد در غیر از جماعت دوستوں اور احباب جماعت سے ملاقاتیں کیں۔حضور کے شملہ پہنچنے کے بعد اور بھی بہت سے احمدی خاندان وہاں پہنچے گئے اور شملہ میں خوب رونق ہو گئی۔حضرت صاحب کا پہلا خطاب جماعت احمدیہ شملہ کے ایڈریس کے جواب میں تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی طبیعت بہت ناساز تھی۔لیکن جماعت کی دل شکنی کے احتمال سے آپ نے یہ دعوت قبول فرمائی۔اس موقع پر آپ نے