سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 81

آپس کی محبت دوسرے میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ آپس میں محبت بڑھاؤ اور اپنے کو دوسروں کے لئے نمونہ بناؤ جیسے تمہار سے درجے بڑے ہیں ، ویسے ہی تمہاری ذمہ داریاں بھی بڑی ہیں۔تمہاری معمولی سی لغزش بھی خطرناک ہے۔ایک بد شکل کریمہ المنتظر کے چہرے پر مکھیاں سمیٹی ہوں تو چنداں بُری معلوم نہیں ہو ہیں۔لیکن ایک حسین کے منہ پر ایک نبی سکھی ہو تو تیری معلوم ہوتی ہے۔پس تمہاری پوزیشن اور ہے اور باہر والوں کی اور یہ نہ کہو کہ جھگڑے تو باہر بھی ہوتے ہیں اگر چہ مجھے جھگڑے کہیں بھی پسند نہیں۔پھر بھی قادیان میں تو اس کے متعلق بڑی احتیاط چاہئیے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انداز تربیت حضرت صاحب کی اصلاح کا اندازہ بڑا لطیف اور عجیب تھا۔ایک شخص آیا اُس نے باتوں ہی باتوں میں یہ بھی بیان کر دیا کہ ریلوے ٹکٹ میں میں اس رعایت کے ساتھ آیا ہوں۔آپ نے ایک روپیہ اس کی طرف پھینک کر مسکراتے ہوئے کہا کہ اُمید ہے جاتے ہوئے ایسا کرنے کی آپ کو ضرورت نہ رہے گی۔خلیفہ وقت پر کئے جانے والے اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے کہ حضرت عمر تو را توں کو پھر پھر کر خبر گیری کیا کرتے تھے جماعت کو زمانے کے بدلے ہوئے تقاضوں کی طرف تو یہ دلائی اور فرمایا :- خلیفہ وقت پر اعتراض حضرت عمر کہتا ہیں نہیں لکھا کرتے تھے اور نہ ان کے نام باہر ہے اتنے لمبے سو سوا سو خطوط روزانہ آیا کرتے تھے جن کے جواب بھی اُن