سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 43
ستم علم و فضل - آپ کی دلکش صورت اور فرشتہ سیرت اور دیگر اوصاف حمیدہ اس علاقہ میں احمدیت کے لئے بڑی کشش کا موجب بنے۔اور متعدد دوسرے دوستوں کو آپ کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔لیکن آپ کی تبلیغی کوششوں کی حد شخصی تعلقات تک ہی نہ تھی۔آپ نے اپنی دولت کا بیشتر حصہ تبلیغ احمد تیت کے لئے وقف کر دیا اور بکثرت اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعہ سے ہندوستان کے طول و عرض میں حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا پیغام پہنچایا اور آپ کے شائع کردہ لٹریچر کے اثر سے دور و نزدیک سے بہت سی سعید روحیں قادیان کی طرف کھینچی چلی آئیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنے مبایعین میں سے ان لوگوں کا خاص احترام فرمایا کرتے تھے ، جو عالم فاضل ، منتقی اور خدا رسیدہ ہوں اور غیر معمولی محبت ان سے رکھتے تھے۔بکثرت ایسے لوگوں کے لئے دعائیں کرتے اور بسا اوقات اپنے کلمات اور تقریروں میں بھی پیار سے ذکر کر کے ان کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔حضرت سیٹھ صاحب کا ذکر بھی حضور بڑی ہی محبت کے انداز میں فرمایا کرتے۔اللہ تعالے نے رویا میں بھی آپ کو حضرت سیٹھ صاحب کا مقام اس رنگ میں دکھایا کہ آپ ایک تخت پر بیٹھے ہیں اور آسمان سے ایک نور ان پر گر رہا ہے اور وہ ذکر الہی میں مصروف ہیں " ابشارات رحمانیہ جلد اول ما انام یہ کتاب اپنے گہرے خلوص اور پر زور دلائل کی بناء پر دین داروں پر ہی نہیں مدینوں پر بھی اثر انداز ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔چنانچہ ایک دوست ڈاکٹر کریم الہی صاحب اپنے ایک دہری شنا سا پر اس کتاب کے اثر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ایک دہریہ نے حضور کا شخفۃ الملوک پڑھا۔کہنا تھا کہ شخص اس طاقت اور قوت کا معلوم ہوتا ہے کہ جس پر کوئی بھی انسان غالب نہیں آ سکے گا یا پھر اس نے القول الفصل " پڑھ کر بھی رہاہے قائم کی کہ یہ ایک عجیب ہی شان کا انسان معلوم ہوتا ہے۔جس کے کلام میں بچپن یا جوش شباب یا نا تجربه کاری یا پست ہمتی کا شائبہ تک نہیں بلکہ بہت بڑے دماغ اور عجیب شان کا انسان ہے جس کے کلام میں قوت عظمت اور جلال کی روح پائی جاتی ہے۔) الفصل (۲ مارچ ۱۹۱۵)