سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 379 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 379

احمدی عورت کے دل میں آپ کی جو قدر و منزلت تھی اور جس طرح وہ آپ کو دل و جان سے عزیز جانتی تھیں اس کے پُر خلوص اور بے ساختہ اظہار کا ایک موقع اس وقت پیدا ہوا جب قبل از تقسیم ملک آپ ایک مرتبہ شدید بیمار ہو گئے۔طبعا ساری جماعت سخت فکرمند تھی اور متواتر دعاؤں اور صدقات میں مشغول تھی لیکن اس موقع پر قادیان کی عورتوں نے اپنی دعاؤں میں زیادہ سوز و گداز پیدا کرنے کے لئے جو خاص طریق اختیار کیا وہ عہد خلافت کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتا ہے۔بہت سی ماؤں نے رات کے وقت اپنے بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دیا۔تاکہ جب وہ ٹھوک سے بہلائیں تو ان کی پیخ و پکار کوشنکہ ماؤں کے دل بھی تڑپ اٹھیں۔اور وہ اس شدید کرب کی حالت میں اپنے پیارے امام کے لئے پر درد دعائیں کر سکیں۔ایسا ہی ہوتا رہا۔اور کئی راتوں تک قادیان کی فضاء میں ماؤں کی پیر در دعاؤں کے ساتھ ملی ہوئی بچوں کے رونے اور بلبلانے کی آواز ایک عجیب درد انگیز ارتعاش پیدا کرتی رہی۔8 طے شود جادہ صد سالہ یہ آہے گا ہے حصول مقاصد میں لجنہ کی کامیابی کا مختصر ذکر احمدی مستورات کی عالمی تنظیم لجنہ اماءاللہ نے آپ کی عظیم الشان قیادت میں جو کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے ان کے تفصیلی ذکر کا یہ موقع نہیں ہے۔یہاں محض بعض خصوصی سرگرمیوں کی ایک مختصر سی فہرست پیش کرنے پر ہی اکتفا کی جاتی ہے۔(1) لجنہ اماءاللہ کی سرکردگی میں احمدی مستورات کے چندہ سے مسجد فضل "لندن کے علاوہ یورپ میں دو اور مساجد تعمیر ہوئیں۔ایک ہالینڈ کی مسجد مبارک اور دوسری ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کی مسجد نصرت جہاں ان دونوں مساجد پہ جو بھی شریح اٹھا وہ سارے کا سارا احمدی عورتوں کے چندہ سے جمع ہوا۔قادیان سے ہجرت کے بعد جماعت کے مرکزہ ثانی ربوہ میں مجلسی اور تنظیمی سرگرمیوں کو زیادہ منظم کرنے کے لئے لجنہ اماءاللہ مرکز یہ نے اپنے دفاتر کے علاوہ ایک ہال بھی تعمیر کرایا۔جس میں ایک عرصہ تک مجلس شوریٰ کے اجلاس بھی منعقد ہوتے رہے۔اب دفاتر لجند