سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 375

۳۷۵ رکھ لیا کروں گا۔اس طرح عورتوں ، مردوں کے جمع ہونے کا جھگڑا بھی پیدا نہ ہوگا اور مجھے بھی پتہ لگ جائے گا کہ عورتیں مشورہ دیتے ہیں کہاں تک مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ان کی رائیں فیصلہ کرتے وقت مجلس میں سُنا دی جائیں گی یہ عارضی طور پر اُن کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں باقی گفتگو اگلے سال کر لی جائے گی " در پورت مجلس مشاورت نساء ما بحوالہ تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فیصلہ کے بعد گو مجلس مشاورت میں تبادلہ خیالات کا سلسلہ تو ختم ہو گیا لیکن اس اہم قومی اور معاشرتی سوال نے ذہنوں میں جو ہیجان پیدا کر دیا تھا اس کی صدائے بازگشت قادیان کی فضاء میں دیر تک سنائی دیتی رہی۔سنجی تبادلہ خیال کے علاوہ مدارس میں بھی یہی مسئلہ مباحثوں کا عنوان بن گیا۔اور اخبارات میں بھی مضامین لکھے جانے لگے۔نشر و اشاعت کے اداروں پر چونکہ مردوں کا غلبہ تھا اس لئے عورتوں کو بجا طور پر حق تلفی کا اندیشہ ہوا اور انہوں نے اپنے پیارے امام کی خدمت میں اس بارہ میں دردمندانہ فریاد کی۔اس پر حضور کا جواب الفضل میں شائع ہوا۔جس میں آپ نے فرمایا :- " الفضل میں ایک مضمون ان کے حق نمائندگی کے خلاف جب چھپا تو لجنہ کی طرف سے میرے پاس شکایت آئی کہ اب ہم کیا کریں۔جامعہ احمدیہ میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی اور وہاں حق نمائندگی کے مخالفین کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔میں نے کہا تم بھی میٹنگ کرو جس میں اس مسئلہ پر بحث کرو کہ مردوں کا مجلس مشاورت میں حق نمائندگی ہے یا نہیں اور پھر فیصلہ کردو کہ نہیں۔الفضل ، جنوری سوار صدا ) کی عورت کے حقوق اور معاشرہ میں اس کے کردار کے بارہ میں حق نمائندگی کے سوال کے دوران جو بخشیں شروع ہوئیں اگر چہ وہ بڑی فکر انگیز تھیں مگر حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک مسئلہ کی اہمیت اس سے بہت