سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 364
سے تک چلتی ہیں۔اس لئے خلیفہ کی اطاعت چاہیئے۔جو بھی خلیفہ ہو۔خلیفہ کے لئے کسی خاندان کسی دائرہ کی شرط کی ضرورت نہیں جس کو خدا بنا دے " داحمدی خاتون - فروری ۱۹۲۳ مش۹۰) اسی طرح ایک اور موقع پر جب یہ تجویز زیر غور تھی کہ مستورات کے ہوسٹل کے لئے صرف مستورات ہی چندہ دیں۔اور اس کی اپیل تھی حضرت ام المؤمنين نصرت جہاں بنگیم رضی اللہ عنہا کی طرف سے ہو تو حضور نے فوراً اس احتمال کو بھانپ لیا کہ اس تجویز کو قبول کرنے کے نتیجہ میں عورتوں میں ایسا خطرناک رحجان پیدا ہو سکتا ہے کہ ایک ہی گاڑی کے دو متوازی پیتے بننے کی سجائے وہ اپنی علیحدہ ایک سمت متعین کرنے کی سوچنے لگیں اور یہ سمجھیں، کہ عورتوں کی قربانی میں چونکہ مردوں کا کوئی دخل نہیں اس لئے کیوں نہ وہ مردوں کی پہنچائی گلیہ مستغنی ہو جائیں۔چنانچہ اس تجویز پر فیصلہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- اس بات کو قطعی طور پر رو کرتا ہوں کہ حضرت ام المؤمنین کی طرف سے اس چندہ کے لئے اپیل ہو اور عورتیں چندہ دیں۔یہ اپیل میری طرف سے ہو اور مرد چندہ دیں۔اگر یہ چندہ عورتوں پر رکھا گیا تو یہ بات آئندہ ہماری ترقی میں حائل ہو جائے گی اور ہمارے گھروں کا امن برباد کر دے گی اور یہ احساس پیدا ہوگا کہ مرد عورتوں کے لئے کچھ نہیں کر رہے اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔میں اس بات کو میں رو کرتا ہوں۔ہمیں چاہیئے کہ ہم ہی اس کالم کے لئے چندہ دیں اور عورتوں کو بتا دیں کہ ہم ان کی تعلیم و تربیت کے لئے انتہائی کوشش کرنے کے لئے تیار ہیں۔رپورٹ مجلس مشاورت شوارع مده تا ۶) جہاں آپ اس بات کو ناجائز قرار دیتے تھے کہ مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ہو وہاں اس امر کی بھی حوصلہ افزائی فرماتے کہ عورتیں اسلامی آداب کی حدود کے اندر رہتے ہوئے بے شک جلسوں اور اجتماعات میں مردوں کی طرح بھر پور شمولیت کریں۔چنانچہ اس غرض سے اکثر جلسوں میں مستورات کے لئے مسجد کی ایک طرف قناتیں لگوا کر علیحدہ انتظام کیا جاتا اور عورت میں بڑے شوق کے ساتھ بکثرت جمعہ کے علاوہ دیگر جلسوں سے لڑکیوں کے ہوسٹل کا اسراء