سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 363
Your by jour زبر دست جذبے کے ساتھ تعمیری کاموں میں مصروف ہیں۔اس تنظیم کی غرض و غایت چند الفاظ میں یہ بیان کی جاسکتی ہے کہ اسلامی تصویر کے مطابق معاشرہ میں عورت کو وہ مقام حاصل ہو جس سے وہ ایک عرصہ سے محروم چلی آرہی تھی اور وہ خود اعتمادی کے ساتھ اپنی ان تمام صلاحیتوں کو تعمیری کاموں کے لئے اسلامی تعلیم کے مطابق بروئے کار لا سکے۔جو قبل ازیں نظر انداز ہو رہی تھیں۔چنانچہ اس غرض سے لجنہ اماء اللہ کی تنظیم کو مختلف شعبوں میں منقسم کر دیا گیا اور عورتوں کی تعلیم و تربیت اور تبلیغی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے پے پر خصوصی زور دیا گیا۔اسی طرح عورتوں میں مالی قربانی کی جو روح پائی جاتی تھی اس کو منظم طور پر بڑھاوا دینے کی کوشش کی گئی یہاں تک کہ چندوں کے معاملہ میں عورتیں مردوں کے مساوی اور متوازی ایسا عمدہ نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئیں کہ نہ صرف اپنی تنظیم کی ضروریات میں وہ مردوں کی محتاج نہ رہیں بلکہ اہم جماعتی چندوں میں بھی خالفتنہ اپنے اسی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ہی تنظیم کے ذریعہ انہوں نے مالی قربانی کے میدان میں عظیم الشان کارنامے سر انجام دیئے۔آپ نے سجنہ کو قدم قدم ملنا سکھایا اور ابتداء میں گہری اور تفصیلی بچسپی لے کر اسے اعلی نظم و نسق کے اصولی سکھائے۔اصلاحی امور میں باریک بینی فطرتِ انسانی تو ایک ہی ہے لیکن جب یہ مرد اور عورت کے ظروف بی علتی ہے تو ان ظروف کی نسبت سے الگ الگ شکلیں اختیار کر لیتی ہے۔تربیت کے توان دوران حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی اس باریک فرق پہ نظر رہتی تھی اور آپ جب عورتوں کو نصائح فرماتے تو خصوصیت کے ساتھ ان عادات اور رحجانا کو پیش نظر رکھتے جو طبعاً مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا : "اگر کسی بات پر اجتماع ہو جاوے اور بعد میں اس میں کوئی نقصان ہی ہو تو اس کا اظہار کرنا اور پھر بار بار اس کو دہرانا کہ ہماری رائے مانتے یا یہ رائے مانتے تو ایسا نہ ہوتا ، یہ نفاق ہے۔پھر یہ کہ خلیفہ وقت کی اطاعت کرو۔انجمنیں تو سالہا سال