سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 361

لجنہ اماء اللہ کے پہلے تاریخی اجلاس میں منصب صدارت کا معاملہ طے ہو جانے کے بعد پہلی جنرل سیکرٹری حضرت سیدہ امتہ الحی مرحومہ منتخب ہوئیں۔چنانچہ آپ بڑے انہماک اور جاں سوزی کے ساتھ اس خدمت میں مصروف ہو گئیں اور صدر مجلس کی رہنمائی میں اس نوزائیدہ مجلس کے تنظیمی ڈھانچے کو منظم اور مربوط کرنے میں شب و روز کوشاں رہیں۔لیکن افسوس کہ آپ کی لامتناہی نیک تمناؤں کے مقابل پر اس دار فانی میں آپ کی زندگی کے بہت تھوڑے دن باقی تھے۔سیکرٹری لجنہ اماء الله مرکز یہ کا عہد نبھانے ہوئے ابھی ایک سال بھی پورا نہ گزرا تھا کہ بچے کی قبل از وقت پیدائش کے باعث آپ خطرناک طور پر بیمار ہوگئیں اور یہی بیماری آپ کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔آپ کی وفات کے بعد خاکسار کی والدہ مرحومہ حضرت سیدہ مریم بیگی جو بعد میں اہم طاہر کے نام سے جماعت میں معروف ہوئیں جنرل سیکرٹری لجنہ اماء اللہ منتخب کی گئیں آپ بھی در تاریخ 19 یعنی اپنی وفات کے دن تک مسلسل اس عہدہ پر فائز رہ ہیں اور صدر مجلس کے ساتھ کامل اطاعت اور تعاون کی روح کو قائم رکھتے ہوئے خدمت دین کی توفیق پاتی رہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ازواج کا ایک تنظیم کی لڑی میں منسلک ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے تابع ہو کر سالہا سال تک اس طرح خدمت دین بجالانا کہ تنظیمی ڈھانچہ میں ایک ادنیٰ سا رخنہ بھی نہ پڑا ہو اور اس نازک رشتہ کے باوجود تعاون کے شیشہ پر بال برابر بھی آنچ نہ آئی ہو یہ ایسی بات ہے جو ان مبارک خواتین کی عظمت کردار سے بڑھ کر اس عظیم شوہر کی عظمت کردار کا پتہ دیتی ہے جو نظم و نسق مسائم رکھنے کی حیرت انگیز صلاحیتیں رکھتا تھا۔آپ ایک ایسے عظیم الشان مرتی تھے کہ بسا اوقات ایک لفظ زبان سے کے بغیر آپ کی شخصیت سے تربیت کا از خود ہونے والا ترشح گردو پیش کو ریڈیائی لہروں کی طرح اپنی ذات کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتیا تھا اور ماحول کی ہر چیز خود بخود ٹھیک ٹھیک اپنے مقام پر بیٹھ جاتی تھی۔اور اپنے دائرہ کار سے تجاوز نہ کرتی تھی۔یا یوں کہہ لیجئے کہ بجلی کے بڑے بڑے ڈانسمیٹر جس طرح اپنے ماحول کو ایسی طاقتور لہروں سے بھر دیتے ہیں کہ بسا اوقات اُن کا پیغام سننے کے لئے بجلی سے چلنے والے ریڈیو سیٹ کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور میرے