سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 293

۲۹۳ کسی علاقے میں مسلمانوں کو ظاہر و مخفی ذرائع سے اپنے مذہب کے تبدیل کرنے یا به صورت دیگر بلاک ہو جانے پر تو مجبور نہیں کیا جاتا اور اس غرض کے لئے دنیا کے تمام ممالک میں ایسے مبلغ بھیجنے چاہئیں جو ہر جگہ کے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر ثابت قدمی سے پابند رہنے کی تلقین کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی جگہ مسلمانوں کو جہڑا تو اسلام سے نہیں ہٹایا جاتا۔خواہ وہ جبز ظاہری اسباب سے ہو خواہ مخفی اسباب سے۔اور اس کی جستجو رکھیں اور جس وقت کوئی ایسی بات معلوم ہو فورا مرکزہ کو ان کی اطلاع دیں تا کہ تمام متمدن دنیا کو اس سے اطلاع دی جاوے۔کیونکہ ظالم کو کس قدر بھی طاقتور ہو جب اسے معلوم ہو کہ میرا ظلم دیکھنے والے موجود ہیں۔تو اسے بہت کچھ دینا پڑتا ہے اور اپنے نام کا خیال رکھنا پڑتا ہے پہلے پھر آپ فرماتے ہیں :- میں اس جگہ یہ بھی اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے بغیر اس امر کا انتظار کئے کہ دوسرے لوگ اس امر کے متعلق کیا فیصلہ کرتے ہیں اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر دی ہے۔اور مختلف ممالک میں دو دو آدمی اس غرض کے لئے بھیجنے کی تجویز کر دی ہے۔اور اور میری جماعت کے جانبازوں کی ایک جماعت نے اپنے آپ کو اس غرض کے لئے وقت بھی کیا ہے جو عنقریب سہولت راہ میتر آنے پر اپنے اپنے مفتوحہ علاقہ میں چلی جاوے گی۔۔اس وقت اسلام کی ترقی کے لئے ایک ہی راہ کھلی ہے کہ ہم تبلیغ اسلام کے لئے کھڑے ہو جا دیں۔یورپ کو ترکوں سے نفرت جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کسی بد انتظامی کی وجہ سے نہیں بلکہ در حقیقت اس کی وجہ یورپ کا یہ خیال ہے کہ اسلام تہذیب کا دشمن ہے اور وہ اس کو اپنی دنیا کا دشمن سمجھ کر جو اُن کو بہت عزیز ہے مٹانا چاہتے ہیں۔پس جب تک یورپ کے دل سے بلکہ تمام سیحی دنیا کے دل له الفضل ، جون ۱۹۲۰ء مشتاء