سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 274

معابد ترکیہ تحریک خلافت اور ترک موالات انیسویں صدی کا آخر اور بیسویں صدی کا آغازہ سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کے لئے طرح طرح کے دکھ اور مصائب لے کر آیا۔لیکن اس دور کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ عالم اسلام کی صحیح رہنمائی کرنے والا کوئی نہ تھا۔گو ایک طرف دنیا پر احمدیت کا چاند طلوع ہوتے ہوئے ہدایت اور نور کی کرنیں بکھیر رہا تھا مگر دوسری طرف کروڑہا مسلمانوں کا ایک انبوہ کثیر تھا جو اس ہدایت اور نور کو ضلالت اور تاریخی قرار دے کر اس سے گریز پا تھا۔راہبر سے بے خبر تھا لیکن تلاش منزل کے لئے سرگرداں نظر آتا تھا۔جذبات محبت و عقیدت بھی تھے۔ملتِ اسلامیہ کا درد بھی موجود تھا۔قربانی کے لئے دل تیار ہی نہیں، قربان گاہوں کے متلاشی بھی تھے۔آرِنَا مَنَا سیگنا کی آوازہ عالم اسلام کے گوشے گوشے سے اُٹھ رہی تھی مگر افسوس کہ اکثر اس صراط مستقیم کو کھو چکے تھے جو ایسی قربان گاہوں کی طرف لے جاتی ہے جہاں خون کا ہر بہنے والا قطرہ اجر کے لاکھوں جواہر عطا کرتا ہے جہاں ہر قربانی گونبظا ہر کیسی ہی اونی نظر آئے رضائے الہی کے انعامات پاتی رومانی خلعتوں کا وارث بناتی ہے۔یہ وہ دور ہے جبکہ خلافت ترکیہ اپنے آخری سانس لے رہی تھی اور خلافت کی اعلیٰ اقتدار کا تو ذکر ہی کیا دنیوی معیار کے لحاظ سے بھی ہر پہلو سے رو بہ انحطاط تھی۔اس عظیم سلطنت کا یہ انحطاط کئی سو سال پر پھیلا ہوا ہے جس دور کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس وقت جو اس کی کیفیت تھی وہ اپنے یسی - آرمسٹرانگ ره H۔C۔ARN STRON نے اپنی مشہور کتاب GRAY WOLF میں بڑی عمدگی سے بیان کی ہے وہ لکھتا ہے :- " ذمی شان خلیفہ سلیمان کے بعد تین سو سال کے اندر اندر سلطنت عظمیٰ عثمانیہ کا دیوالہ پیٹ چکا تھا اور ارذل نتر تک پہنچ کر اس کے اجزاء منتشر ہونے لگے تھے۔اس یقین کے نتیجہ میں کہ یہ اب ٹوٹی کہ اب ٹوٹی عیسائی طاقتیں ہر طرف سے اس پر حریصانہ دباؤ ڈال رہی تھیں کہ جو کچھ لے اُڑنے کی طاقت ہو وہ لے اُڑیں۔روس کر میں اور کاکیشیا پر قبضہ جما چکا تھا۔قسطنطنیہ کا دعویدار تھا۔اور ڈاٹ ٹنل کے راستے بحر اوقیانوس تک پہنچنے کی راہ مانگ رہا تھا۔فرانس شام اور تیونس کو ہتھیا چکا تھا انگ اے