سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 17

16 احمدیہ کا نفرنس کا انعقاد اور تقریر منصب خلافت منصب خلافت پر فائز ہونے کے ایک ماہ کے اندر ہی فتنہ انکارِ خلافت سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اور آئندہ جماعت احمدیہ کو ایک ٹھوس لائحہ عمل دینے کی خاطر آپ نے ۱۲؍ اپریل کو جماعت احمدیہ کے نمائندگان کی ایک کانفرنس بلائی جیسے احمدیہ کا نفرنس" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس کا نفرنس میں ایسے اہم اور دور رس فیصلے کئے گئے جن سے ہمیشہ کے لئے مقام خلافت واضح اور روشن ہو کہ جماعت کے سامنے آگیا۔اور اس بارہ میں فتنہ و فساد اور شکوک و ابہام کے خطرات ختم ہو گئے اگرچہ الہی سلسلوں پر فتنے ہمیشہ آتے ہی رہتے ہیں اور ان کی تطہیر کی غرض سے بتلاء ان کا مقدر ہے لیکن جہاں تک اس سوال کا تعلق تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حقیقی جانشین کون ہے اور کسی انجمن کو خلافت کے مقابل پر کیا حیثیت حاصل ہے اس کانفرنس میں اس سوال کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر دیا گیا اور اس کے بعد جماعت مبائعین کو کبھی اس بارہ میں وسوسہ یا تردد پیدا نہ ہوا۔نہ انشاء اللہ آئندہ کبھی ہوگا یہ بنیادی فیصلہ جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں۔حسب ذیل تھا :- اس قاعدہ میں حسب حالات ترمیم ہونی چاہیئے جس میں صدر المین احمدیہ اور امام وقت کے تعلق کی وضاحت کی گئی ہے۔تاکہ جماعت میں تفرقہ اور دو عملی کے حالات پیدا نہ ہوں اور جماعت کا حقیقی اتحاد قائم رہے۔بعد میں مختلف مقامی جماعتوں کی اکثریت نے بھی مجلس مشاورت کے اس فیصلہ کی تائید میں ریزولیوشن پاس کئے اور مجلس معتمدین سے درخواست کی کہ وہ جماعت کی خواہش کے مطابق اس مسئلہ سے متعلق قاعدہ نمبر ۱۸ میں مجوزہ تبدیلی کا فیصلہ کرے۔چنانچہ مجلس معتمدین نے اس جماعتی مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے اپنے اجلاس مورخه ۲۶ اپریل ۱۹۱۲ ء میں زیر ریزولیوشن نمبر ۱۹۸ فیصلہ کیا کہ صدر انجمن احمدیہ کے قاعدہ نمبر ۸ ۱ میں الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام" کی جگہ حضرت