سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 204
۲۰۴ کام کرنے والوں میں یہ روح نہ ہو کہ جو حاکم ہو اس کے احکام کی اطاعت کی جائے اس وقت تک ان کے حکم کا بھی کوئی انتدام نہ کرے گا لے حقیقت یہ ہے کہ جب تک قانون کی پابندی پورے طور پر نہ کرائی جائے اس وقت تک کوئی نظام قائم نہیں رہ سکتا۔یں سمجھتا ہوں قانون کو بدلوائے بغیر اس کا توڑنا جائز نہیں لیکن مجھے جن لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں یہ ہے مجلس شوری کا منصب مجلس شوری کا منصب اور جماعتی نظام میں اس کا مقام کیا ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :- خلیفہ وقت نے اپنے کام کے دو حھتے کئے ہوئے ہیں ایک حصہ انتظامی ہے اس کے عہدیدار مقرر کرنا خلیفہ کا کام ہے۔دوسرا حصہ خلیفہ کے کام کا اصولی ہے اس کے لئے وہ مجلس شوری کا مشورہ لیتا ہے۔پس مجلس معتمدین انتظامی کاموں میں خلیفہ کی ایسی ہی ہے جانشین ہے جیسی مجلس شوری اصولی کاموں میں خلیفہ کی جانشین ہے ہے مجلس شوری ہو یا صدر انجمن احمدیہ خلیفہ کا مقام بہر حال دونوں کی سرداری ہے۔انتظامی لحاظ سے وہ صدر انجین احمدیہ کا راہنما ہے اور آئین سازی اور بحث کی تعیین کے لحاظ سے وہ مجلس شوری کے نمائندوں کے لئے بھی صدر اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے ہے ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۱۳ء ص ۳ کے رپورٹ مجلس مشاورت ۶۱۹۳۹ ص۳۶ رپورٹ مجلس مشاورت ۹۳لہ الفضل ۲۷ را پریل ۶۱۹۳۶