سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 171

141 آخری فیصلہ ناظر تعلیم و تربیت کا ہوگا اور محاسبہ کے متعلق ناظر محاسبہ کا اور امور عامہ کے متعلق ناظر امور عامہ کا اور امیر سے صرف وہی معاملات متعلق ہوں گے جو مقامی ہیں کہ لے امارتوں کے قیام کے علاوہ اسی سال حضور نے مجلس شوری کے مشورہ کے ساتھ ہر جمبات میں مختلف سیکرٹریوں کا تقرر بھی فرمایا جو مرکزی نظارتوں کے کام میں اپنی اپنی جماعت کی نمائندگی کریں۔اس اہم انتظامی فیصلہ کے نتیجہ میں جماعت کی ہر شاخ میں ایک قسم کی چھوٹی سی صدر انجمن احمدیہ کی تصویر بن گئی۔ہر نظارت سے تعلق رکھنے والا ایک ایک سیکرٹری ہر جماعت میں اس غرض سے مقرر ہوا کہ متعلقہ نظارت کے ہر قسم کے کاموں کی یہ نگرانی کرے اور تعمیری کاموں کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔یہ نظام آج بھی جماعت احمدیہ میں قائم ہے اور مزید مستحکم ہو چکا ہے البتہ چھوٹی جماعتوں میں امیر کی بجائے صدر منظر ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے امارت کے نظام کو نافذ کرنے کے بعد اُسے نہایت عمدہ رنگ میں پروان چڑھایا اور بڑی احتیاط اور پیار کے ساتھ جماعت کی اس بارہ میں تربیت فرمائی یہاں تک کہ آج قریباً ہر احمدی نظام جماعت کے اس پہلو سے خوب واقف ہو چکا ہے۔فرائض اور اس کے بارہ میں ہدایات کا اُسے علم ہے۔اور احباب جماعت اپنے حقوق اور فرائض سے خوب واقف اور آشنا ہیں۔چنانچہ جب کبھی بھی کسی فتنہ پرواز نے اس نظام میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کی جماعت نے بیک آواز اُسے ناکام کر دکھایا۔اختلافات کا پیدا ہونا تو ایک طبعی امر ہے۔اور زندگی کی علامت ہیں لیکن حضرت مصلح موعود نے اختلافات سمجھانے کا ایک ایسا عمدہ اسلوب جماعت میں رائج کر دیا کہ بڑے بڑے اہم اختلافات بھی بغیر کسی قباحت اور فتنے کے اس اعلیٰ نظام اور تربیت کی برکت سے زائل ہو جاتے ہیں۔جب بھی جماعت کے کسی فرد نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو کسی ایسے امر سے آگاہ کیا جو اس کے نزدیک امیر کو نہیں کرنا چاہیئے تھا۔تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایسے موقع پر عموما حسب ذیل طریق اختیار فرمایا:۔اگر وہ شکایت بے نام ہوتی تو اس پر کوئی کارروائی نہ فرماتے اور خطبات میں بھی اس امر پر کئی دفعہ اظہار رائے فرمایا اور بتایا کہ اگر اس طرح ہے نام شکایت کرنے والے ہوں ، تو له الفضل ۱۸؍ فروری شاه حه -