سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 168
14^ کہا کہ باہر سہی جانا اچھا ہے۔جب باہر جانے لگے اور جوش کم ہوا تو صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ باہر آنا غلطی تھی، اور ہم نے غلطی کی۔مگر آپ نے نہ مانا اور کہا کہ نبی جب تیار ہو جاتا ہے تو پھر نہیں کوٹتا اس وقت انہیں سبق دینے کے لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات مان لی۔اور اس جنگ میں ایک امیر مقررہ کیا کہ اس کے حکم کے بغیر نہیں ہٹنا۔مگر پھر جو حالت ہوئی وہ ظاہر ہے۔امیر کی پوزیشن تو یہ بات کہ امیر کثرت رائے کی اتباع کرے۔۹۹ فیصد یہی ہوگا، کہ ایسا ہی کرے اور ممکن ہے کہ پانچ پانچ سال ایسا ہی ہو کہ اس کو اپنی بات منوانے کی ضرورت ہی نہ ہو۔تجھے یاد نہیں پڑتا کہ کوئی ایسی بات ہوئی ہو جس کے خلاف مشورہ دیا گیا ہو اور میں نے کہا ہو کہ یہی کرو۔تو امیر کے لئے یہ رکھا ہے کہ کثرت رائے سے فیصلہ کرے اور اگر اس کے خلاف کرے تو وجو ہات لکھے۔دوسرے لوگ اگر چاہیں تو خلیفہ وقت کے پاس شکایت کریں۔اطاعت کی روح پیدا کرو ہماری جماعت میں اطاعت کی رُوح ہونی چاہیئے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم جان بوجھ کر ایسے لوگوں کو مقرر فرماتے جو کم حیثیت ہوتے اور اشارۃ بیان کیا کہ دیکھوں لوگ اطاعت کرتے ہیں یا نہیں۔اسامہ کو ایک بڑے تشکر کا سردار مقرر کیا اس خیال سے کہ آیا لوگ اطاعت کرتے ہیں یا نہیں۔مدینہ میں والی غیر معروف مقرر کئے اور ماتحت بڑے بڑے صحابی کئے۔پس جماعت میں یہ مادہ ہونا