سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 119
119 دھرتے ہاں علیحدہ خط کی انتظار میں رہتے ہیں۔لیکن اگر کسی شخص کا لڑکا گم ہوا ہو اور اخبار میں نکل جائے تو جس کے ہاں ہوتا ہے وہ اُسے وہیں روک لیتا ہے خط کا انتظار نہیں کرتا۔ان کے دلوں میں ایسا جوش پیدا کرو۔کہ جو نہی یہ دین کیلئے آواز سنیں فورا دوڑ پڑیں۔۔۔۔جب کوئی اعتراض پیش آوے پہلے خود اس کے حل کرنے کی کوشش کرو فوراً قادیان لکھ کر نہ بھیج دو۔خود سوچنے سے اس کا جواب مل جائے گا اور بیسیوں مسائل پر غور ہو جائے گی۔قادیان آنے کی تاکید کرتے رہو لوگوں کو قادیان بار بار آنے کے لئے اور تعلق پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہو جب تک کسی شاخ کا جڑ سے تعلق ہوتا ہے وہ ہری رہتی ہے لیکن شاخ کا جڑ سے تعلق ٹوٹ جانا اس کے سوکھ جانے کا باعث ہوتا ہے۔موجودہ فتنے میں توے فیصدی ایسے لوگ ہیں جو اسی وجہ سے کہ اُن کا تعلق قادیاں سے نہ تھا فتنے میں پڑے۔بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ قادیان میں کچھ کام نہیں رہا۔روپیہ جاتا ہے اور وہ لوگ بانٹ کر کھالیتے ہیں اس لئے لوگوں کو قادیان سے تعلق رکھنے کے لئے کوشش کرتے ر الفضل قادیان مورخه ۱٫۲۲ اپریل ۱۹۱۷ ه ، رہو" جلسه سالانه ۱۹۱۵ء جلسه سالانه شاشاء منعقده ۲۶ - ۲۷-۱۲۸ دسمبر جماعت احمدیہ کے لئے بہت خوشیوں کے سامان لایا۔اس سے پہلے کبھی اس کثرت سے احباب جماعت اور دیگر زائرین جلسہ پر تشریف نہ لائے تھے۔اُس زمانہ کے لحاظ سے یہ کہنا جائز ہوگا کہ ایک ہجوم خلائق تھا جو قادیان کی طرف کھنچا چلا آیا۔ایک اور نمایاں پہلو اس جلسہ کا یہ تھا کہ بڑی کثرت کے ساتھ لوگ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور جماعت کے ازدیاد ایمان کا موجب بنے۔نہ صرف یہ کامیابی فی ذاتہ خوشی کی بات تھی بلکہ ہر پہلو سے منکرین خلافت