سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 100
اسلام سچا مذہب ہے اور اپنی سچائی کے خود دلائل رکھتا ہے نہ کہ آوروں کا محتاج ہے اس کے لئے سب سے بہتر طریق یہی ہے کہ میں آپ کو ان کے ماننے کے لئے اس طرح مجبور نہیں کروں گا کہ چونکہ قرآن شریف کھتا ہے اس لئے ضرور مان ہی لو۔بلکہ میں ایسی دلیل دوں گا جو آپ کو ماننی پڑے گی اور آپ کا دلی اطمینان کرتا جاؤں گا۔۔۔ہم قرآن شریف کو لیتے اور دیکھتے ہیں کہ آیا وہ خدا تعالے کی ہستی کی کوئی دلیل دیتا ہے یا نہیں۔دیکھئے میں آپ کے سامنے ایک آدمی بیٹھا ہوں۔آپ کو کس طرح معلوم ہوا کہ نہیں آدمی ہوں۔اسی طرح کہ میں آدمیوں کی طرح بولتا دیکھتا ہوں اور وہی صفات مجھ میں پائی جاتی ہیں جو آدمیوں میں ہوتی ہیں۔لیکن اگر ایک آدمی پر دے کے مجھے بیٹھا ہوا باتیں کر رہا ہو تو آپ کس طرح اسے پہچانیں گے کہ آدمی ہے ؟ اس کی باتوں کے اثر سے کیونکہ وہ خود تو نظر نہیں آتا تو ایک چیز کے معلوم کرنے کے لئے کئی ایک طریق ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ایک پھول ہو میں کہوں اس میں بڑی اعلیٰ درجہ کی خوشبو ہے تو آپ یہ نہیں کہیں گے کہ مجھے خوشبو دکھا دو بلکہ یہی کہو گے کہ منگھا دو۔اسی طرح عمدہ آوازہ ہے۔اس کی نسبت آپ یہ نہ کہیں گے گرسنگھا دو بلکہ یہی کہیں گے کہ شنا دو۔اسی طرح ایک چیز کڑوی با سیٹی ہے، تو آپ یہ نہیں کہیں گے کہ سُناد و بلکہ یہی کہیں گے کہ چکھا دو۔پس اس سے معلوم ہوا کہ مختلف چیزوں کے معلوم کرنے کے لئے مختلف طریق ہوتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں خدا کو آنکھوں سے دکھا دو تو ہم مانیں گے۔بعض باتیں ایسی ہیں جن کو ان حواس ظاہری سے معلوم نہیں کیا جاتا۔بلکہ اور طرح بھی ماننا پڑتا ہے۔مثلاً لنڈن ایک شہر ہے جسے آپ نے نہ دیکھا سونگھا نہ چھوا اور نہ چکھا بلکہ لوگوں سے شنکر مانا ہے۔سکھ زائر :۔میں نہیں مانتا کہ لنڈن کچھ ہے۔