سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 90
۹۰ تربیت قبول کرنے کی اہلیت رنگ خواہ کیسا ہی دیدہ زیب اور پختہ اور دیر پا کیوں نہ ہو جب تک کسی کپڑے میں اُسے قبول کرنے کی پوری صلاحیت موجود نہ ہو وہ رنگ اس پر چڑھ نہیں سکتا۔تربیت کا رنگ بھی اسی شرط کا محتاج ہے۔اس پہلو سے جب ہم حضرت صاحبزادہ مرزاعه ود احمد صاحب کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں آپ کی ذات میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود نظر آتی ہے کہ اچھی باتوں کو قبول کرنے اور خوبصورت رنگوں کو اپنانے کا مادہ آپ کو بدرجہ احسن ودیعت ہو ا تھا یہی نہیں بلکہ غلط نقش کو رد کر دینے کی اہلیت بھی آپ بخوبی رکھتے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود عل السلام کی لمبی تربیت کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ آپ اچھی بات کو جو اچھے اور عمدہ طریق پر کہی گئی ہو قبول کرتے تھے بلکہ ایسی نصیحت کو بھی جو بظاہر سخت کڑوی ہو لیکن فی ذاتہ درست ہو آپ بغیر تردد اور نفسیاتی الجھن کے قبول فرما لیتے تھے۔ایک واقعہ اس ضمن میں اس پہلو سے خصوصاً قابل غور ہے کہ اچھی عمر تلخی سے کی ہوئی نصیحت کو نہ صرف آپ نے قبول کیا بلکہ اس نصیحت کرنے والے کا احسان زندگی بھر محسوس فرماتے رہے : مجھے ایک دوست کا احسان اپنی ساری زندگی میں نہیں بھول سکتا اور میں جب کبھی اس دوست کی اولاد پر کوئی مشکل پڑی دیکھتا ہوں تو میرے دل میں نہیں اُٹھتی ہے اور اُن کی میبودی کے لئے دعائیں کیا کرتا ہوں بستہ کی بات ہے جب کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام مولوی کرم دین والے مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور میں مقیم تھے وہ دوست جن کا میں ذکر کر رہا ہوں مراد آباد یو پی کے رہنے والے تھے اور فوج میں رسالدار میجر تھے۔محمد ایوب ان کا نام تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنے کے لئے گورداسپور آئے تھے۔انہوں نے دو باتیں ایسی کیں جو میرے لئے ہدایت کا موجب ہوئیں۔دتی میں رواج تھا کہ بچے باپ کو تم کہہ کر خطاب کرتے اسی طرح بیوی خاوند _