سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 89
٨٩ اظہار کر رہی ہیں۔اس ظاہری غصہ کے بعد جس کا کوئی دکھ ہم بچوں کو نہیں پہنچتا تھا۔خود ہی پریشان ہو جاتی تھیں اور بچے کی دلجوئی کی کوشش فرمائیں۔ہم بچے تو آپ کے پوتوں پوتیوں نواسوں، نواسیوں کی حیثیت سے کبھی کبھی آپکے فیضیاب ہوتے تھے۔ہاں وہ اولاد بڑی خوش قسمت تھی جسے مسلسل آپ کا فیضان حاصل رہا۔میرے والد حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے بچپن کے زمانے میں آپ کا کیا انداز تربیت تھا اس کے متعلق بہترین بیان آپ کی اولاد ہی میں سے کسی کا ہو سکتا ہے۔لہذا اپنی بڑی پھوپھی جان حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کے ایک مضمون میں سے متعلقہ اقتباس پیش خدمت ہے۔آپ فرماتی ہیں :- بچے پر ہمیشہ اور بہت پختہ اعتبار ظاہر کر کے اس کو والدین کے اعتبار کی شرم اور لاج ڈال دینا یہ آپ کا بڑا اصول تربیت ہے۔جھوٹ سے نفرت اور غیرت و غنا آپ کا اول سبق ہوتا تھا۔ہم لوگوں سے بھی آپ ہمیشہ میں فرماتی رہیں کہ بچے میں یہ عادت ڈالو کہ وہ کہنا مان کے پھر بے شک بچپن کی شرارت بھی آئے تو کوئی ڈر نہیں۔حضرت ام المومنین مرضی الله عنها ہمیشہ فرماتی تھیں کہ میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے اور یہی اعتبار تھا جو ہم کو جھوٹ سے بچاتا بلکہ متنفر کرتا تھا۔۔۔اور مجھے یاد ہے کہ حضور اقدس سے حضرت والدہ صاحبہ کی بے حد محبت و قدر کرنے کی وجہ سے آپ کی قدر میرے دل میں اور بھی بڑھا کرتی تھی۔بچوں کی تربیت کے متعلق ایک اصول آپ یہ بھی بیان فرمایا کرتی تھیں کہ پہلے بچے کی تربیت پر اپنا پورا زور لگاؤ دوسرے اُن کا A نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گئے تھے له سیرت ام المومنین۔صنفه شیخ محمود احمد صاحب عرفانی حصہ اول ص۹-۳۹۴