سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 88

آپ کی تربیت میں آپ کی بزرگ والدہ کا حصہ یہ مضمون اُدھورا رہے گا اگر یہ ذکر نہ کیا جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تربیت کے ساتھ ساتھ حضرت صاحبزادہ صاحب کی بزرگ والدہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنھا کی تربیت کا بھی آپ کے کردار کی تشکیل پر نہایت گہرا اثر پڑا۔بہت کم ہوتے ہیں وہ خوش نصیب بچے جن کے والدین دونوں ہی اعلئے مرتبانہ اوصاف سے متصف ہوں۔مزید براں دونوں کی تربیت کے دھارے ایک ہی سمت میں بہتے ہوں اور دونوں کے مزاج میں تضاد کی بجائے ہم آہنگی پائی جائے۔حضرت صاحبزادہ مرز امحمود احمد صاحب کے شاندار مستقبل کے بارہ میں جو پیش گوئی کی گئی تھی اس کی عملی تصویر بنانے کے لئے جو مختلف اسباب کار فرما تھے، ان میں یہ بھی ایک اہم سبب تھا۔باقی تمام امور بچے کی تربیت کے لئے خواہ کیسے ہی موید کیوں نہ ہوں۔اگر صرف یہی رخنہ پڑ جائے کہ ماں باپ کا انداز تربیت ایک دوسرے کی ضد یا مزاج اور مطمع نظر مخالف ہوں تو صرف یہ ایک سبب ہی بچے کی تربیت میں گھرے گھاؤ ڈال دیتا ہے۔یہ اللہ تعالے کا آپ پر غیر معمولی احسان تھا کہ ماں بھی آپ کو وہ نصیب ہوئی جو شرافت اور نجابت اور فن تربیت میں ایک بلندشان رکھتی تھی اور آپ کا مطمح نظر بھی وہی تھا جو حضرت اقدس مرزا غلام احمد علا ایسی سلام کا تھا۔آپ کی والدہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم جو راقم الحروف کی دادی تھیں اور جو میں امسال تک مجھے بھی آپ کا زمانہ پانے کی سعادت نصیب ہوئی ہے، بڑے سادہ اور موثر الفاظ میں نصیحت فرمایا کرتی تھیں۔بناوٹ اور تصنع کے کوچے سے نا آشنا صدق وصفا کی مظہر تھیں۔آپ کی ہر بات محبت بھری سچائی سے معطر تھی۔سوائے غصہ کے میں نے آپ کی کسی بات میں کبھی ادنی سا تکلف کا شائبہ تک نہ دیکھا۔دل کی چونکہ بے حد نرم تھیں۔غصہ بہت کم اور وہ بھی برائے نام ہی آتا تھا لہذا کبھی بچوں کے ساتھ کسی حرکت پر اظہار ناراضگی مقصود ہو تو زیر دستی غصہ ظاہر فرمایا کرتیں۔اور ہم بعد میں ہنسا کرتے کہ حضرت اماں جان کو غصہ وغیرہ تو کوئی نہیں ہے محض ہماری تنبیہہ کی خاطر