سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 78
بہت اہم ہے اور تربیت کرنے والوں کے لئے اس میں بڑا گہرا سبق ہے کہ علم کی حدود کہاں جا کر ختم ہوتی ہیں اور سختی کے تقاضے کہاں سے شروع ہوتے ہیں۔۔دو چھوٹے چھوٹے واقعات اس فرق کو ظاہر کرنے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں :- اولاً حضرت صاحبزادہ صاحب کا اپنا بیان ہے کہ ایک دفعہ ایک کتا ہمارے دروازے پر آیا۔میں وہاں کھڑا تھا۔اندر کمرے میں صرف حضرت صاحب تھے میں نے اس کتے کو اشارہ کیا اور کہا ٹیپو ٹیپو ٹیپو حضرت صاحب بڑے غصے سے باہر نکلے اور فرمایا تمہیں شرم نہیں آتی کہ انگریز نے تو دشمنی کی وجہ سے اپنے کتوں کا نام ایک صادق مسلمان کے نام پر ٹیپو ر کھ دیا ہے اور تم اُن کی نقل کر کے کتے کو ٹیپو کہتے ہو۔خبردار ! آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا " میری عمر شاید آٹھ نو سال کی تھی۔وہ پہلا دن تھا جب سے میرے دل کے اندر سلطان ٹیپو کی محبت قائم ہوگئی ہے اس واقعہ سے جہاں ایک طرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بچے کے سر فعل کو بلا امتیاز برداشت کرنا حلم کی تعریف میں داخل نہیں وہاں حضرت مرزا صاحب کی بے پناہ دینی اور قومی حمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔وہ بچہ جو آپ کے منہایت محنت سے لکھے ہوئے قیمتی مسودات کو جن پر خدا جانے کتنے گھنٹوں یا راتوں کی محنت آپ نے صرف فرمائی ہوگی، آن واحد میں تیلی دکھا کر خاکستر کر دیتا ہے، اس کا یہ فعل تو آپ برداشت فرما لیتے ہیں اور اس تکلیف کا کوئی خیال نہیں کرتے جو اس کے نتیجہ میں آپ کو دوبارہ اٹھانی پڑی۔لیکن ایک مسلمان سلطان جو قومی حمیت میں شہید ہوا اور جس کے ساتھ آپ کا اسلام کے سوا کوئی اور رشتہ نہ تھا اس کے نام کو ایک بچہ کا لاعلمی کی بنا پر بھی اس رنگ میں لینا جس سے اس کی تحقیر ہوتی ہو آپ سے برداشت نہ ہو سکا۔اس واقعہ میں ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو حضرت مرزا صاحب پر انگریز کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگانے کی جسارت کرتے ہیں۔قومی حمیت سے لبریز وہ دل جو سلطان فتح علی ٹیپو کی محض اس لئے انتہائی عزت کرتا تھا کہ انگریز کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی بجائے اس نے اپنی زندگی مردانہ وار نثار کر دی۔کیسے ممکن ہے کہ ایسے غیور انسان کے متعلق کسی غیر قوم کا ایجنٹ ہونے کا واہمہ تک بھی دل میں لایا جائے۔الفضل یکم اپریل شده شده است