سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 79

69 یاد ؟" نهایت شفیق اور مہربان ہونے کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی یہ پسند نہ فرماتے تھے که بخیه دینی فرائض کی سرانجام دہی میں غفلت کرتے اور آپ بغیر سرزنش یا اظہار ناراضگی کے اسے چھوڑ دیں۔اسی قسم کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں : ایک دفعہ حضرت صاحب کچھ ہمار تھے۔اس لئے جمعہ کے لئے مسجد میں نہ جاسکے۔میں اس وقت بالغ نہیں تھا کہ بلوغت والے احکام مجھ پر جاری ہوں۔تاہم میں جمعہ پڑھنے کے لئے مسجد کو آرہا تھا کہ ایک شخص مجھے طا۔اس وقت کی عمر کے لحاظ سے تو شکل اس وقت تک د نہیں رہ سکتی تھی مگر اس واقعہ کا اثر مجھ پر ایسا ہوا کہ اب تک مجھے اس شخص کی صورت یاد ہے۔محمد بش اُن کا نام ہے۔۔۔میں نے اُن سے پوچھا۔آپ واپس آرہے ہیں، کیا نماز ہو گئی ہے ؟ انہوں نے کہا۔آدمی بہت ہیں مسجد میں جگہ نہیں تھی میں واپس آگیا۔میں بھی یہ جواب سن کر واپس آگیا اور گھر میں آکر نماز پڑھ لی حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا۔مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے ؟ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں بچپن سے ہی حضرت صاحب کا ادب اُن کے نبی ہونے کی حیثیت سے کرتا تھا۔میں نے دیکھا آپ کے پوچھنے میں ایک سختی تھی اور آپ کے چہرہ سے غصہ ظاہر ہوتا تھا۔آپ کے اس رنگ میں پوچھنے کا مجھے پر بہت ہی اثر ہوا۔جواب میں میں نے کہا کہ میں گیا تو تھا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آگیا۔آپ ی سُن کر خاموش ہو گئے۔لیکن اب جس وقت جمعہ پڑھ کر مولوی عبد الکریم صاحب نے آپ کی طبیعت کا حال پوچھنے کے لئے آئے تو سب سے پہلی بات جو حضرت مسیح موعود نے آپ سے دریافت کی وہ یہ تھی کہ آج لوگ مسجد میں زیادہ تھے ؟ اس وقت میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوتی کیونکہ میں خود تو گیا ہی نہیں تھا معلوم نہیں بتانے والے کو غلطی لگی یا مجھے اس کی بات سمجھتے میں غلط فہمی ہوتی ہے۔میں ان کی بات سے یہ سمجھا تھا کہ مسجد میں جگہ نہیں ہے۔