سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 48

کتاب ہے جو آج بھی ہر مخلص حق جو کا تزکیہ نفس کر کے اُسے اس قابل بنا سکتی ہے کہ اُس کا اپنے ربّ سے ایک زندہ اور ٹھوس تعلق قائم ہو جائے۔آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص دین اسلام اور بانی اسلام اور صحیفہ اسلام کی صداقت کو پر کھنا چاہتا ہے تو وہ آئے اور اللہ تعالیٰ کے اس انتہائی مشفقانہ اور کریمانہ سلوک کو دیکھ لے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل غلامی کے نتیجہ میں اس نے مجھ سے فرمایا ہے۔وہ مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔وہ مجھے فتح اور نصرت کی بشارتیں دیتا ہے، میری دعاؤں کو سُنتا ہے اور اُن کی قبولیت کی ایسی خوش خبریاں مجھے دیتا ہے جو اپنے وقت پر نہایت صفائی سے پوری ہوتی ہیں۔وہ ہر قدم پر میری نصرت فرماتا ہے اور میرے مخالفین کو نیچا دکھاتا ہے۔میں دُنیا میں تنہا تھا اور ساری دنیا میری مخالفت میں یک جان و کمر بستہ تھی پھر بھی اس نے ہر مخالف کے شر سے مجھے محفوظ رکھا اور دن بدن مجھے برکت پر برکت دیتا چلا گیا اور زمین میرے لئے غیر کے مقابل پر ہمیشہ بڑھتی رہی، آج بھی اسی طرح وہ میری دعاؤں کو سُنتا اور میری حفاظت کی ضمانت دیتا ہے اور میرے لئے غیرت دکھاتا ہے یہاں تک کہ روئے زمین کی تمام طاقتیں اور تمام مذاہب کے ماننے والے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگائیں تو بھی مجھے بلاک نہیں کر سکتے اس ضمن میں آپ نے پنڈت لیکھرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- الا ! اسے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بران محمد کرامت گرچہ بے نام و نشان است بیا بنگر ز غلمان محمد آئینہ کمالات اسلام ) یعنی اگرچہ کرامات اور معجزات عملاً دنیا سے ناپید ہوچکے ہیں، لیکن ! اے شکوک میں بھٹکنے والے آ اور محمد صلے اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے ہاتھوں نمودار ہونے والے معجزات اور کرامات کا مشاہدہ کر اور اسے نادان اور گمراہ دشمن اسلام، محمد صلے اللہ علیہ و سلم کی کاٹ دینے والی تیز تلوار سے ڈر۔اور آپ نے تمام دنیا کے مذاہب کے رہنماؤں کو بار بار چیلنج دیا کہ اگر واقعی تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالی تمہارے ساتھ ہے تو اسی ایک نکتے پر سب لڑائی کا فیصلہ ہوا چاہتا ہے۔خدا تعالی کی تائید کی لازماً کچھ علامتیں ہوتی ہیں ان علامتوں کی کسوٹی پر رکھ کر دیکھ لو کہ سچائی کس کے ساتھ ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی دوسرا مذہبی رہنما اس مقابلے کے لئے آمادہ نہ بھی ہو تو میری طرف سے یہ دعوت پھر بھی قائم رہتی ہے اور وہ شخص جو صدق دل سے صداقت کا متلاشی ہے اس کے لئے میرے گھر کے دروازے کھلے رہیں گئے وہ