سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 41
3 لہندا ہرگز آپ کے خاتم النبیین ہونے کے مخالف نہیں اور آخری صاحب شریعت نبی جن کے فرمان کا سکہ تا قیامت جاری رہے گا، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہی میں اور کوئی نہیں با غير نبی ایسا پیدا نہیں ہو سکتا جو آپ کے کسی ارشاد کا ایک شعتہ بھی تبدیل کر سکے یا نعوذ باللہ آپ کی شریعت سے نہر مو انحراف کرنے کا واہمہ بھی دل میں لا سکے۔مندرجہ بالا پا نچوں دعاوی چونکہ مسلمان علماء کی اکثریت کے مروجہ عقائد کے خلاف تھے۔اِس لئے حضرت مرزا غلام احمد صاحب پر ان کی شدید ناراضگی ایک لازمی امر تھا اور چونکہ حضرت مرزا صاحب اپنے دعاوی کی تمام تر بنیاد قرآن و سنت پر رکھتے تھے لہذا آپ کے اور دیگر مسلمان علماء کے درمیان ان امور پر ایک شدید ند بی جنگ شروع ہو گئی کہ کس حد تک قرآن و سنت آپ کے دعاوی کو اسلامی یا غیر اسلامی ثابت کرتے ہیں۔یہ جنگ جو ابھی تک جاری ہے اور فیصلہ کن ہونے تک ائندہ بھی جاری رہے گی ایک قلعی رجحان ضرور ظاہر کر چکی ہے کہ اس دن ہے ہے کہ کہ جب حضرت مرزا صاحب اکیلے تھے اور آپ کے مقابل پر بند دوستان بھر کے علمار ایڑی چوٹی کا زور آپ کی مخالفت میں لگا رہے تھے آج تک ایک دن بھی ایسا نہیں پڑھا جس میں آپ کے مشن کا قدم ترقی کی جانب نہ اُٹھا ہو۔سینکڑوں علماء اور بزرگان اسلام جو کبھی کافر کہنے والوں کے زمرہ میں شامل تھے قرآن وسنت کے پیش کردہ دلائل سے گھائل ہو کر آپ کی صداقت اور شامل کے قائل ہوتے چلے گئے اور لاکھوں مسلمان عوام بھی آپ کے سلسلہ میں داخل ہو کر آپ کے قافلہ میں آملے اور ملتے چلے جاتے ہیں۔کبھی آپ اکیلے تھے، اور آج لکھوکھا آپ کے ماننے والے ہیں۔کبھی آپ کی آواز مشرقی پنجاب کے ایک گمنام گاؤں قادیان سے تنہا بھی تھی اور ہندوستان کے وسیع و عریض نقار خانے کے شور تلے دیتی دکھائی دیتی تھی۔وہ آواز جسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کر دینے کی خاطر ہندوستان کے طول و عرض میں ایک تہلکہ مچ گیا تھا اور ایک ایسا غلغلہ باو ہو بلند ہورہا تھا کہ جس کی بازگشت ہمالہ کی شمالی چوٹیوں سے ٹکرا کر مہندوستان کے جنوبی ساحل تک سنائی دیتی تھی، ہاں وہی تنہا آواز پھر تنہا نہ رہی۔کوئی فصیل اس کا حصر نہ کر سکی۔ہزاروں لاکھوں صدائیں اس کی تصدیق میں ہندوستان کے گوشے گوشے سے بلند ہونے لگیں ایسے گھپ اندھیری رات میں نیم شبانہ عبادت کرنے والے عابد اپنے اپنے عبادت خانوں میں چراغ جلاتے ہیں۔تعداد میں کم ، خال خال اور دور دور لیکن بایں ہمہ شب ظلمات میں نور کے احیاء اور بقاء کی یقینی علامت لئے ہوئے ویسے ہی آپ کی صداقت کا نور لتے ہوئے بے شمار چراغ ہندوستان کی دیگر بستیوں میں متعدد دوسرے سینوں کو منور کرنے لگے۔مخالفت کا شور بھی بلند ہوتا چلا گیا اور عصبیت کے اندھیرے