سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 42

بھی پھیلتے رہے، لیکن تصدیق کی آوازیں بھی ہر لمحہ تعداد اور قوت میں پہلے سے بڑھ کر آمَنَّا وَصَدَقْنَا آمَنَّا وصدقنا ! کے راگ الاپنے لگیں اور ایمان کی شمعیں بھی مقدس سینوں کے راہب خانوں میں ہر شب پہلے سے بڑھ کر روشن ہوتی رہیں۔یہ مذہبی جنگ ہندوستان کی سرحدیں پھلانگ کر مشرق وسطے کے عرب ممالک میں بھی جا پہنچی اور کفر کے فتووں کا ایک کان پھاڑ دینے والا شور وہاں سے بھی بلند ہوا۔لیکن وہاں بھی تائید اور تصدیق کی آوازیں ساتھ ساتھ بلند ہونے لگیں۔غرضیکہ مخالفت کا کوئی شور خطہ ارض پر ایسا نہ اُٹھا جس کے بطن سے تصدیق کی آوازیں بھی بلند نہ ہوئی ہوں۔یہ سب مخالفت مسلمانوں کی طرف سے تھی اور اس مخالفت کی وجوہات کا مختصر تذکرہ اوپر گزر چکا ہے بڑی اور بنیادی وجہ اس کی یہی تھی کہ اُس مسیح ناصری کی موت کا آپ نے اعلان کیا تھا جس کے زندہ آسمان سے اترنے کا خواب مسلمان علماء اور عامتہ الناس صدیوں سے دیکھ رہے تھے۔صدیاں بیت گئی تھیں۔تنزل کی جھونپٹریوں میں سسکتی ہوئی اس قوم کو جو کبھی اوج ثریا پر قدم رکھتی تھی اور ایک کے بعد عروج کے دوسرے ستارے پر کمندیں ڈال رہی تھی اگر تے کرتے یہ آخرایسی گری کہ سطح زمین سے بھی نیچے اتر گئی اور تحت الشرار سے ورے اس کے قدم نہ تھے۔غرضیکہ دنیا کی ادنی ادنی قوموں کو بھی آج ہر شعبہ زندگی میں ان سے فزوں تر مقام حاصل ہو گیا اور زندگی کی سب قدروں میں وہ ان پر بازی لے گئیں، ہلاکت اور ادبار کے اس سخت دردناک دور میں ایک اور صرف ایک اُمید تھی جو چرخ چہارم سے وابستہ تھی نکبت کے سفلی میدانوں میں چاروں شانے چت گرے ہوئے مسلمان مسیح ناصری کے آسمان سے اترنے کی راہ دیکھ رہے تھے گویا وہ ان عظیم الشان برکتوں کی راہ دیکھ رہے تھے جو نعوذ باللہ امت محمدیہ کے لئے میسج موسوی کے قدموں سے وابستہ ہو چکی تھیں۔وہ راہ دیکھ رہے تھے جاہ وحشمت کے اُن محلات کی جن کے ابواب سیچ ناصری کی جنبش سب سے وا ہوتے تھے۔وہ راہ دیکھ رہے تھے اُن طلسماتی فلک بوس قلعوں کی جن کی تعمیر کا الہ دینی چرا مسیح ناصری کے دست راست میں تھا۔پھر حضرت مرزا صاحب کا یہ جرم کیا کم تھا کہ اس آسمانی منجی کی موت کے اعلان کی ایک ہی ضرب کے ساتھ حسین خوابوں کا یہ حسین طلسم پارہ پارہ کر دیا گیا۔لیکن کاش مسلمان علماء یہ سوچتے کہ اگر ایک خیالی مسیح اُن کے ہاتھ سے چھینا گیا تھا تو ایک حقیقی میں انہیں عطا بھی تو ہو ا تھا۔وہ سبیح جس نے محمد سلتے ہیں کی غلامی ہی میں امت محمدیہ میں پیدا ہونا تھا اور محمد صلے اللہ کی غلامی ہی میں امت محمدیہ میں مرنا تھا۔جس نے اُمت محمدیہ کو خوابوں کی بے عمل زندگی سے نکال کر حقائق جد و جہد ایثار اور قربانیوں سے بھر گویر ایک نئی زندگی عطا کرنی تھی جس نے اُمت محمدیہ کو پھولوں کی سیج پر لٹا کر اوریاں نہیں دینی۔عليه وسلم