سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 322
مبارک ثابت ہونے کی خدا تعالیٰ کے فضل سے امید ہے یانہ کی مدیرہ الحکم کی یہ نیک اُمید کس شان سے پوری ہوئی تھی اس کا پورا اندازہ شاید اس نیک تمنا کا اظہار کرتے ہوتے خود راقم الحروف کو بھی نہ ہو۔مدرسہ احمدیہ کا نگران بنتے ہی آپ نے بڑے انتہاک اور محنت اور حکمت اور دعاؤں کے ساتھ مدرسہ احمدیہ کا معیار بلند سے بلند تر کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔اللہ تعالیٰ نے ان مخلصانہ کوششوں کو اپنے فضلوں اور برکتوں سے نوازا۔اور یہ انتہائی مفید دینی درسگاہ جس نے مستقبل میں احمدیت کو اجل مذہبی راہنما مہیا کرتے تھے بہت جلد ایک بلند اور قابل رشک معیار تک پہنچ گئی۔مدرسہ احمدیہ کے نگران کی حیثیت سے آپ کی شخصیت کا مطالعہ ہمیں آپ کی عظیم مربیانہ صلاحیتوں سے روشناس کرانے کا ایک عمدہ ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ایس سلسلہ میں مدیر الحکم کے صاحبزادہ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کے قلم سے کھینچا ہوا ایک مختصہ خاکہ پڑھنے کے لائق ہے اور اس ضرب المثل کے مصداق ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے: مدرسہ ہائی کے ساتھ جب تک مدرسہ احمدیہ رہا' اس کی حالت بالکل ایک لاوارث چیز کی سی تھی۔طالب علموں کے پاس پورے طور پر کمرے بھی نہ تھے۔مدرسوں کے پاس اچھی کرسیاں تک نہ تھیں۔بعض کلاسیں زمین پر چٹائیاں بچھا کر گزارہ کرتی تھیں۔ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ نہ امتحان ہوا اور نہ کلاس بند ہوئی۔بالکل لاوارتی کی سی حالت تھی۔اس بےکسی کے زمانہ میں حضرت محمود مدرسہ احمدیہ کے لئے فرشتہ بن کر ظاہر ہوئے مدرسہ احمدیہ کی نظامت آپ کے سپرد ہوتی۔وہ مدرسہ احمدیہ جس کی ڈوبتی کشتی ایک دفعہ آپ پہلے بچا چکے تھے اب آپ نے اسے اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے لیا۔آپ کا وجود مدرسہ احمدیہ کے لئے ایک عیسم رحمت تھا۔آپ نے پست خیال طالب علموں کے اندر علو ہمتی پیدا کرنے کے لئے متعدد طریق اختیار فرمائے۔آپ نے حکما طالب علموں کو زمین پر بیٹھ کر پڑھنے سے منع فرمایا کیونکہ اس سے پست خیالی پیدا ہوتی ہے۔طالب علموں کو فن خطابت سکھانے کے لئے جلسوں اور لیکچروں کا انتظام فرمایا۔ہر جمعرات کو نصف ن الحکم ۲۸ متی شاه مت